پٹرولیم قیمتوں کا اچانک اضافہ: عوام پر بوجھ اور انوینٹری گیم

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہی جھٹکے میں 55 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ کیا گیا ہے، جس نے نہ صرف عوام کو شدید معاشی دباؤ میں دھکیل دیا ہے بلکہ اس فیصلے کے پیچھے مبینہ طور پر اربوں روپے کی ’’انوینٹری گیم‘‘ کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول 321 روپے 17 پیسے اور ڈیزل 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر پر پہنچ گیا ہے ۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا کافی ذخیرہ موجود تھا۔قانون کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ کم از کم 20 دن کا پیٹرولیم سٹاک اپنے پاس رکھیں ۔ اس وقت ملک میں تقریباً 1.6 ملین میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، جو 27 دن کی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس 27 دن کا پیٹرول اور 21 دن کا ڈیزل موجود ہے ۔ اسی طرح خام تیل کے 11 دن اور ایل این جی کے 9 دن کے ذخائر ہیں ۔ذرائع کے مطابق جس روز قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، اس وقت آئل کمپنیوں کے پاس تقریباً 1.4 ملین میٹرک ٹن پر مشتمل 23 دن کا سٹاک پہلے ہی سے موجود تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیمت بڑھنے سے پہلے بڑی مقدار میں سستا تیل ذخیرہ کیا جا چکا تھا۔ پاکستان میں تقریباً 11 ہزار پیٹرول پمپ کام کر رہے ہیں ، اور ایک پیٹرول پمپ میں اوسطاً ایک لاکھ لیٹر تک ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس طرح ملک بھر میں بڑا ذخیرہ موجود تھا جس پر قیمتوں میں اضافے نے کمپنیوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا۔ماہرین کے مطابق مارکیٹنگ کی اصطلاح میں اسے “انوینٹری گیم” کہا جاتا ہے۔ جب کسی کمپنی کے پاس پہلے سے بڑی مقدار میں کم قیمت پر خریدا گیا سٹاک موجود ہو اور حکومت اچانک قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دے تو کمپنیوں کو بغیر کسی اضافی لاگت کے اربوں روپے کا فائدہ ہو جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق صرف اس ایک فیصلے سے آئل کمپنیوں کو مجموعی طور پر تقریباً 110 ارب روپے کا غیر معمولی فائدہ حاصل ہوا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے بھی حکومت سے سوال کیا کہ اس فیصلے سے کس کو فائدہ ہوا ۔تاہم صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ انوینٹری گین اور انوینٹری لاس دونوں اس نظام کا حصہ ہیں۔ جب بین الاقوامی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کمپنیوں کو عارضی فائدہ ہوتا ہے، لیکن جب قیمتیں گرتی ہیں تو انہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی پیٹرولیم مارکیٹ کا بڑا حصہ سرکاری اداروں کے پاس ہے، پاکستان اسٹیٹ آئل اور پاک عرب ریفائنری جیسے ادارے سرکاری ہیں ۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے میں مبینہ طور پر تقریباً 60 فیصد تک کک بیک کی باتیں زیر گردش ہیں۔ یہ بھاری کمیشن کس نے لیا، کن ہاتھوں میں گیا اور اس کے پیچھے کون سے طاقتور کردار موجود ہیں، اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔ پشاور ہائی کورٹ میں اس اضافے کو چیلنج کر دیا گیا ہے ۔اس پس منظر میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا یہ فیصلہ واقعی معاشی ضرورت تھا یا پھر چند بااثر حلقوں کے مفادات کا کھیل؟ حکومت کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بحران اور آبنائے ہرمز میں پیدا شدہ صورتحال کی وجہ سے یہ اضافہ ناگزیر تھا ۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق بروقت اقدامات کی وجہ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے ۔تاہم عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے حکومت کو اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرانی چاہئیں۔ اگر واقعی انوینٹری گیم کھیلی گئی ہے تو اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ اس وقت پٹرولیم ڈیلرز بھی اپنے منافع میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انہوں نے 26 مارچ تک کی ڈیڈ لائن دے دی ہے ۔ اس صورتحال میں حکومت کو عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ چند مافیا کے مفادات کی خاطر عوام پر بوجھ ڈالنے کی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں