پولیس وردی ذاتی مفاد کیلئے استعمال، ایس ایچ او کی شہری کو کھلی دھمکی، انصاف لاوارث

ملتان (سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کا تو یہ واضح حکم ہے کہ پولیس اہلکار اور افسران جس بھی شہری سے بات کریں گے جناب کہہ کر بات کریں گے۔ مگر دہائیوں سے لوگوں کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آنے والی پنجاب پولیس ابھی اس نئے حکم نامے کو قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہی۔ جس کا مظاہرہ ضلع کچہری ملتان میں دیکھنے میں آیا اور اس واقعے نے پولیس نظام و اختیارات کے استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملک سعید، جو اس وقت ایس ایچ او ملتان کینٹ تعینات ہیں، نے مبینہ طور پر ایک شہری امیر فیصل کو کچہری کی حدود میں کھلے عام دھمکیاں دیں اور حسب سابق پولیس وردی کو دھونس، دباؤ اور خوف کی علامت بنا کر پیش کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ایس ایچ او نے ضلعی کچہری میں تلخ جملوں کا استعمال کرتے ہوئے امیر فیصل سے کہا کہ میں نے وردی تم جیسے لوگوں کو سیدھا کرنے کے لیے پہنی ہے۔ اگر پولیس میں ہوتے ہوئے بھی کوئی مجھ سے قبضہ چھڑا لے تو پھر میں نے ساری زندگی جھک ماری ہے، پولیس کی نوکری نہیں کی۔” یہ بیان نہ صرف پولیس کے وقار کے منافی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ ایک حاضر سروس افسر کی جانب سے کھلی دھمکی تصور کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امیر فیصل کی ساڑھے تین کنال کمرشل اراضی، جو تھانہ مظفر آباد کی حدود میں واقع ہے، پر مبینہ طور پر ملک سعید اور ان کے بھائیوں منیر اور بشیر نے قبضہ جما رکھا ہے۔ امیر فیصل کا دعویٰ ہے کہ خسرہ گردآوری سمیت تمام سرکاری دستاویزات مکمل اور درست ہونے کے باوجود زمین واگزار نہیں کی جا رہی بلکہ راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی تھانہ مظفر آباد میں ایس ایچ او سعید گجر نے ملک سعید کے بھائیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، تاہم بعد ازاں وہ مقدمہ ختم ہو گیا۔ مزید انکشاف یہ ہوا ہے کہ جب یہی معاملہ ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں زیر سماعت تھا اور وہاں دونوں فریقین کا آمنا سامنا ہوا تو وہاں بھی مبینہ طور پر ایس ایچ او ملک سعید نے سخت دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ ابھی میں بدلے پر نہیں آیا، اگر بدلے پر اتر آیا تو تمہاری نسلیں بگاڑ کر رکھ دوں گا۔” یہ الفاظ ایک حاضر سروس پولیس افسر کی جانب سے ادا کیے گئے تو نہ صرف یہ اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ قانون کی بالادستی پر بھی سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ یہ واقعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا پولیس وردی قانون کے تحفظ کے لیے ہے یا ذاتی مفادات کے لیے استعمال کی جا رہی ہے؟ اگر ایک شہری مکمل ملکیتی کاغذات کے باوجود اپنی زمین واپس حاصل نہیں کر پا رہا اور اسے سرعام دھمکیوں کا سامنا ہے تو پھر عام آدمی انصاف کے لیے کہاں جائے؟ امیر فیصل نے اعلیٰ حکام، بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری اور غیر جانبدارانہ انکوائری کے ذریعے جائزہ لیا جائے اور اپنے احکامات پر عمل کرواتے ہوئے ایسے پولیس والوں کے رویے درست کروائے جائیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں