پولیس،ریونیو اہلکار، عدالتی ملازمین کاجعلی نکاح نامے بناکرجائیدادیں ہتھیانے کا انکشاف

پولیس،ریونیو اہلکار، عدالتی ملازمین کاجعلی نکاح نامے بناکرجائیدادیں ہتھیانے کا انکشاف

گروہ نے ممتاز آباد کے رہائشی اوورسیز پاکستانی عمیر علی کی موضع بائیو والا اراضی کاسرکاری ریکارڈ حاصل کرکے شناختی کارڈ کی کاپی حاصل کرلی

قادر پورراں کی بیوہ کا شناختی کارڈ حاصل کرکے دونوں کا جعلی نکاح نامہ تیار،10کروڑ کی اراضی بطور حق مہر لکھوا کرعدالت میں کیس دائر کردیا

3 ماہ میں فیصلہ دیکراراضی خاتون کے نام منتقل،سعیدہ بی بی کے نام رقبہ ٹرانسفر ہونے کے ایک ہفتہ کے اندر اراضی کی فروخت کا معاہدہ کرلیا گیا

سعیدہ بی بی نکاح سے لاعلم،اراضی پر عدالتی بیلف پہنچنے پر عمیر علی کی وطن واپسی، حقیقت آشکار، خضر حیات اور فیاض جعلساز گروہ کے فرنٹ مین

ملتان(میاں غفار سے)لاہور کے بعد ملتان میں جعلی نکاح نامے بناکر شریف شہریوں کو اربوں روپے کی جائیدادوں سے محروم کرنے اور عدالتی معاونت سے اندر خانےجائیدادیں ٹرانسفر کرانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ اس گروہ میں ریونیو اہلکار، عدالتی ملازمین ، جعلسازی کے مرتکب افراد اور بعض پولیس اہلکار شامل ہیں ۔ یہ گروہ ملتان کے متعدد شرفا کو ان کی قیمتی جائیدادو ں سے محروم کرچکاہے ۔ اس گروہ نے ملتان کے علاقہ ممتاز آباد کے رہائشی اوورسیز پاکستانی سید عمیر علی کے 10کروڑ مالیت کی بر لب سڑک اراضی واقع موضع بائیو والا سرکاری ریکارڈ حاصل کرکے شناختی کارڈ کی کاپی حاصل کرلی اور قادر پورراواں کی رہائشی ایک شریف بیوہ عورت کا بھی شناختی کارڈ حاصل کرکے دونوں کا جعلی نکاح نامہ تیار کیا پھراس جعلی نکاح نامہ میں وہی دس کروڑ مالیت کی اراضی بطور حق مہر لکھوا کر اس گروہ میں شامل عدالتی اہلکار نے ملتان سول جج محمد عرفان کی عدالت میں کیس دائر کردیا ۔ سول کورٹ کی طرف سے شناختی کارڈ کے مطابق سید عمیر علی کا مکمل ایڈریس کے باوجود عدالتی خط و کتابت ملتان میں کسی لابر موڑ کا رہائشی ظاہر کرکے لی گئی اور عدم جواب صرف تین ماہ میں فیصلہ دے کر 10 کروڑ کی اراضی سعیدہ بی بی نامی عورت کے نام منتقل کردی پھر اس سعیدہ بی بی کے نام رقبہ ٹرانسفر ہونے کے ایک ہفتہ کے اندر اندر اراضی کی فروخت کا معاہدہ کرلیا ۔ جب سید عمیر علی کو ان کے اراضی پر موجود ملازم نے بتایا کہ کچھ لوگ ان کی اراضی کی پیمائش کررہے ہیں اور عدالتی بیلف بھی موقع پر موجود ہے تو سید عمیر علی فوری طورپر پاکستان پہنچے ، پاکستان پہنچنے پر انہیں پتہ چلا کہ ان کا جعلی نکاح نامہ تیار کیاگیا ہے اور جعلساز گروہ کے فرنٹ مین خضر حیات اور محمد فیاض نامی اشخاص ہیں ، سعیدہ بی بی سے جب رابطہ کیاگیا تو اسے نہ تو کسی نکاح کا علم تھا او ر نہ ہی اس کے نام بذریعہ عدالت کسی جائیداد کی ٹرانسفرکا علم تھا ، سید عمیر علی نے 17 سال قبل یہ رقبہ 40 لاکھ روپے میں خریدا تھا جبکہ اب ڈی ایچ اے کے گیٹ کے بالمقابل ہونے کی وجہ سے کروڑوں روپے کا ہوچکاہے ۔ سید عمیر علی نے وہاں اللہ دتہ نامی ملازم بھی رکھا تھا جس نے رقبہ کی پیمائش بارے سید عمیر علی کو اطلاع دی تو انہوںنے پاکستان آکرریکارڈ دیکھا تو ان کی زمین نکاح نامے کی شرط کے مطابق بذریعہ عدالت محض 3 ماہ میں سعیدہ بی بی کے نام ٹرانسفر ہوچکی تھی ، سعیدہ بی بی نے اپنے بیان میں کہہ دیا ہے کہ وہ بیوہ ہے اوراس نے کس سے نکاح نہیں کیا تھا اور نہ ہی انہیں اس اراضی بارے علم ہے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں