پودوں کی چوری میں ملوث بلاک افسر، گارڈ کیخلاف کارروائی نہ ہوسکی

بہاولپور (لیڈی رپورٹر)لال سوہانرا لاڈم سر ٹو کے جنگلات سے کیکر اور بیری کے لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی پودے چوری کرانے میں مبینہ طور پر ملوث بلاک افسر اجمل بلوچ اور گارڈ آصف کیخلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوسکی۔ لاڈم سر ٹو لال سوہانرا بلاک نمبر 5 کے مربع نمبر 708 اور 709 میں سال 2023-24 میں سیڈ براڈکاسٹنگ پلانٹیشن کی گئی تھی۔ تین سال کے عرصے میں پودے تیار ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق بلاک افسر اجمل بلوچ نے مبینہ طور پر پتوکی کی ایک نرسری کے ساتھ ان درختوں کا سودا طے کرتے ہوئے تقریباً 2 ہزار روپے فی پودا کے حساب سے فروخت کیا اور ہزاروں کی تعداد میں پودے فروخت کیے گئے۔بعد ازاں معاملے کو دبانے کے لیے گارڈ آصف کی مدعیت میں ایک مبینہ طور پر فرضی ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ تاہم میڈیا کی نشاندہی پر ڈی ایف او لال سوہانرا طارق سناواں نے رینج افسر سفارش علی ورک کو انکوائری کے احکامات جاری کیے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رینج افسر نے مبینہ طور پر اجمل بلوچ کے ساتھ ڈی ایف او کے نام پر ایک بڑی ڈیل کر لی اور کارروائی کرنے کے بجائے اجمل بلوچ کو لاڈم سر ٹو سے ہٹا کر لاڈم سر ون میں تعینات کر دیا گیا۔الزامات کے مطابق طارق سناواں اور سفارش علی ورک نے مبینہ طور پر مالی مفادات کے بدلے بڑے پیمانے پر ہونے والی اس چوری کے معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ اسی دوران جب یہ معاملہ سیکرٹری جنگلات طاہر عباسی کے نوٹس میں آیا تو ڈی ایف او نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اجمل بلوچ کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کرنے اور ریکوری ڈالنے کی کارروائی کی۔تاہم ڈی ایف او کے تبدیل ہونے کے باوجود ملوث اہلکاروں، اجمل بلوچ، گارڈ آصف اور ان کے مبینہ سہولت کار سفارش علی ورک شامل ہیں، کو نہ تو ابھی تک تبدیل کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی مؤثر محکمانہ انکوائری شروع کی گئی ہے۔ ایک شہری نے بھی ان تمام معاملات اور مبینہ کرپشن کے ثبوت اکٹھے کر کے اینٹی کرپشن میں کارروائی کیلئے درخواست دینے کا عندیہ دیدیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں