پندرہ ارب کا کسان پیکج مستر، کسان اتحاد کا آئندہ سال گندم کاشت نہ کرنے کا اعلان

ملتان( نامہ نگار خصوصی )کسان اتحاد نے پنجاب حکومت کی جانب سے 15 ارب روپے کا کسان پیکیج مسترد کردیا اور سبسڈی ناکافی قرار دیتے ہوئے آئندہ سال گندم کاشت نہ کرنے کا اعلان کردیا۔ ان خیالات کااظہار کسان اتحاد کے سربراہ خالد کھوکھر نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔خالد کھوکھر نے کہا کہا کہ کسان دبا ئوکا شکار ہے کہیں ایسا نہ ہو خود کشی کرلے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کا 15 ارب روپے کا کسان پیکیج مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ سال گندم کاشت نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کا کسان پیکیج ناکافی قرار ہے، کاشتکاروں کو گندم پر سبسڈی بہت کم ہے، کسانوں نے مریم نواز کے کہنے پر گندم کاشت کی، وزیراعلی پنجاب نے ایک بار بھی کاشتکار کی مشکل کا نہیں پوچھا۔خالد کھوکھر نے مزید کہا کہ پیداواری لاگت پوری نہیں ہورہی، حکومت ہمارا حق دے، اگلی بار کاشت نہیں ہوگی، ہم خوراک بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، پچھلے سال یوریا دستیاب نہیں تھی، اس سال کاشتکار نے خریدی نہیں، کاشتکار کھاد، یوریا، فرٹیلائزر استعمال نہیں کرے گا تو پیداوار کیسے ہوگی، ہم پہلے ہی کھاد کم استعمال کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی 10 سے 12 ارب ڈالر کی زرعی اجناس امپورٹ کررہے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی سے کھربوں روپے نقصان ہوا، حکومت نے کوئی امداد کی؟، صرف آٹے کا ریٹ ہے؟ چینی کا کوئی ریٹ نہیں؟، آٹا دو، چار ایکڑ والے غریب اور چینی اربوں روپے کی ہے، وزیراعلی نے کاشتکاروں کے کون سے وفد سے ملاقات کی ہے؟۔ ان کا کہنا ہے کہ سلمی بٹ مریم نواز کی ترجمان بنی ہیں، ان کو کسانوں کا کچھ نہیں پتا، کسی ایسے انسان کو لائیں جو کسانوں سے بات تو کرے، جس کو زراعت کا پتا نہیں اس کو منسٹری دے دی ہے۔ خالد کھوکھر نے کہا کہ کسانوں کو ان کے حقوق نہیں مل رہے، گندم کی فصل کا ریٹ کسانوں کو نہیں مل رہا، میں ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں اپنی سبسڈی اور خیرات واپس لے لو، ہمیں اپنی اجرت چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موسمی تبدیلیوں سے کسانوں کا کھربوں کا نقصان ہوا ہے، اس طرح کے حالات سے کاشتکار خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، کاشت کار ڈر ڈر کر زندگی گزار رہا ہے، کپاس کا کاشت کار رو رہا ہے، حکومت کے کہنے پر کپاس کاشت کی گئی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں