پنجاب کے ہسپتالوں میں 5738 آسامیاں ختم، آپریشن کیلئے مہینوں انتظار

ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال سمیت پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں سٹاف کی کمی5738 درجہ چہارم کی اسامیاں ختم، مریضوں کو کئی کئی ماہ آپریشن کا ٹائم نہیں دیا جاتاپنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے متنازعہ اقدام سے صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ملتان سمیت مختلف اضلاع کے ہسپتالوں میں وارڈ اٹینڈنٹس، وارڈ بوائے اور دیگر درجہ چہارم کی 5738 آسامیاں ختم کر دی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں پہلے ہی موجود سٹاف کی کمی مزید گہری ہو گئی ہے۔ ڈاکٹروں اور مریضوں کا کہنا ہے کہ اب آپریشن کا ٹائم مریضوں کو کئی کئی ماہ بعد کا دیا جا رہا ہے، جو صحت کے شعبے کی بدحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے مالی بچت اور انتظامی اصلاحات کے نام پر یہ آسامیاں ختم کی گئیں، لیکن ہیلتھ ورکرز اور یونیئنز اسے ‘غریبوں کی صحت کا قتل عام قرار دے رہے ہیں۔ ملتان کے نشتر ہسپتال، جو صوبے کے بڑے علاج گھروں میں شمار ہوتا ہے، میں یہ کمی سب سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق، وارڈز کی صفائی، مریضوں کی منتقلی اور بنیادی معاون خدمات کے لیے سٹاف کی شدید کمی ہو گئی ہے، جس سے انفیکشن کنٹرول اور ایمرجنسی سروسز خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ایک مریض محمد رمضان نے کہا میرے بیٹے کو غدود کا آپریشن درکار ہے، لیکن ہسپتال والوں نے 2027 کا ٹائم دیا ہے۔ یہ کیسی اصلاحات ہیں جو مریضوں کی جانیں داؤ پر لگا رہی ہیں رمضان جیسے درجنوں مریض روزانہ ہسپتالوں کے گیٹوں پر احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ سٹاف ممبران کام کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ فیصلہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے تحت کیا گیا، جس میں صوبائی بجٹ کی بچت کو یقینی بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ “کل اسکالز 1 سے 4 تک کی آسامیاں ختم کی گئیں، جن میں وارڈ بوائے، سوئیپرز اور اٹینڈنٹس شامل ہیں۔ لیکن اب ہسپتالوں کی کارکردگی 30 فیصد تک کم ہو چکی ہے،” انہوں نے کہا نئی بھرتیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس سے مستقبل میں بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ڈاکٹرز ایسوسی ایشن آف پنجاب (ڈی اے پی) کے صدر نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ اقدام ہیلتھ سسٹم کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ پنجاب میں پہلے ہی ڈاکٹروں کی کمی ہے، اب معاون سٹاف کے بغیر ہسپتال ‘موت کے گھر بن جائیں گے۔ملتان ڈویژنل کمشنر آفس سے حاصل ہونے والی رپورٹ کے مطابق، نشتر ہسپتال میں سینکڑوں آسامیاں ختم ہوئی ہیں، جبکہ لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں بھی صورتحال گمبھیر ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ کمی نہ صرف آپریشنز میں تاخیر کا باعث بن رہی ہے بلکہ ہسپتالوں میں صفائی اور حفاظتی اقدامات کی بھی کمی پیدا کر رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں