گزشتہ اقساط میں راقم الحروف نے اس امر کا تفصیلی جائزہ لیا تھا کہ کس طرح بھرتیوں میں بے لگام خودمختاری، کمزور قیادت، اور احتساب کے فقدان نے پنجاب کی جامعات کو ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جہاں میرٹ ایک خواب اور ہر طرح کے مفاداتی تحرک ایک حقیقت بن چکے ہیں۔ مگر اس ساری بحث کا ایک نہایت اہم اور اکثر اوقات نظر انداز کیا جانے والا پہلو یہ بھی ہے کہ جامعات کو کن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، اور قیادت کے تسلسل میں کس قدر خطرناک خلا پیدا کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پنجاب کی متعدد جامعات طویل عرصے تک مستقل وائس چانسلرز سے محروم رہتی ہیں اور انہیں اضافی چارج یا قائم مقام انتظام کے تحت چلایا جاتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے حکومتی ترجیحات پر یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بظاہر یہ ایک عبوری انتظام محسوس ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہی عبوری بندوبست بعض اوقات سالوں تک جاری رہتا ہے، جو کسی بھی ادارے کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے۔
ایسے میں ایک اور بنیادی کمزوری جو ہماری جامعات کے ڈھانچے میں جڑ پکڑ چکی ہے، وہ ایک مضبوط اور بااختیار گورننگ اسٹرکچر کا فقدان ہے۔ دنیا کی کامیاب جامعات میں ایک فعال بورڈ آف گورنرز یا ایگزیکٹو باڈی ہوتی ہے، جس میں نہ صرف جامعہ کے اندرونی افراد بلکہ باہر کے ایسے ماہرین بھی شامل ہوتے ہیں جن کا اپنے شعبوں میں کردار بے داغ اور کارکردگی مثالی ہوتی ہے۔ ان میں دیانت دار ججز، مالیات اور کاروبار کے ماہرین، انجینئرز، اور سنجیدہ ماہرینِ تعلیم شامل ہوتے ہیں نہ کہ وہ نمائشی یا غیر فعال افراد جو محض نشستیں سنبھالنے کے لیے تعینات کر دیے جاتے ہیں اور ادارے کی سمت متعین کرنے میں کوئی حقیقی کردار ادا نہیں کرتے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر بورڈز ایسے افراد پر مشتمل ہوتے ہیں جن کا جامعہ کی ترقی سے کوئی عملی تعلق نہیں ہوتا۔ سیاسی بنیادوں پر تعینات کردہ افراد، وقتی مفادات کے حامل نمائندے، یا وہ لوگ جو صرف نام کے لیے شامل کیے جاتے ہیں، ادارے کو نہ تو وژن دے سکتے ہیں اور نہ ہی اسے بحران سے نکال سکتے ہیں۔ نتیجتاً جامعہ ایک واضح سمت سے محروم ہو جاتی ہے اور پالیسی سازی محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر جامعہ کے لیے ایک ایسا خودمختار مگر جوابدہ بورڈ تشکیل دیا جائے جو کم از کم پانچ سے دس سال کے واضح اہداف مقرر کرے۔ یہ اہداف محض کاغذی منصوبے نہ ہوں بلکہ ملک کی مجموعی ضروریات، صنعتی تقاضوں، اور عالمی تعلیمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیے جائیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ ان منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے—یعنی جیسے ہی ایک وائس چانسلر کی مدت ختم ہو، اس کے ساتھ ہی پالیسیوں کا جنازہ نہ نکل جائے۔
ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ جیسے ہی قیادت بدلتی ہے، ترجیحات بدل جاتی ہیں، ٹیمیں تحلیل کر دی جاتی ہیں، اور جاری منصوبے ختم کر دیے جاتے ہیں۔ ہر نیا وائس چانسلر اپنے ساتھ ایک نیا ایجنڈا لے کر آتا ہے، جس میں گزشتہ حکمت عملیوں سے کوئی تسلسل نہیں ہوتا۔ یوں جامعہ ایک تجربہ گاہ بن جاتی ہے جہاں ہر چند سال بعد نئے تجربات کیے جاتے ہیں، مگر کوئی بھی منصوبہ اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ پاتا۔ اس عمل نے نہ صرف وسائل کا ضیاع کیا ہے بلکہ اداروں کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اگر واقعی ہم اپنی جامعات کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس وقتی اور غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی کو ترک کرنا ہوگا۔ اداروں کو افراد کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے مضبوط نظام کے تابع کرنا ہوگا—ایسا نظام جو شخصیات سے بالاتر ہو اور پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنائے۔
ایک فعال اور بااختیار بورڈ آف گورنرز ہی وہ پلیٹ فارم ہو سکتا ہے جو وائس چانسلر کی تبدیلی کے باوجود ادارے کے طویل المدتی وژن کو برقرار رکھے، اہداف کی نگرانی کرے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جامعہ وقتی مفادات کے بجائے قومی ترقی کے ایجنڈے کے تحت آگے بڑھے۔
آخر میں سوال وہی ہے جو ہر باشعور ذہن کو جھنجھوڑتا ہے:
کیا ہم اپنی جامعات کو واقعی خودمختار اور باوقار ادارے بنانا چاہتے ہیں، یا انہیں ذاتی مفادات اور وقتی اقتدار کے کھیل کا میدان بنائے رکھنا چاہتے ہیں؟







