پنجاب کی جامعات میں خودمختاری کے نام پر بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں، وائس چانسلرز کے انتظامی کردار، سنڈیکیٹ کے ناجائز استعمال اور حکومتی نگرانی کی کمزوریوں کا مختصر جائزہ لیا گیا تاہم اگر اس پورے نظام کے سب سے زیادہ حساس اور فیصلہ کن پہلو کی نشاندہی کی جائے تو وہ بھرتیوں میں خودمختاری کا اندھا اختیار ہے۔ یہ ایک ایسا اختیار ہے جو بظاہر تو ادارہ جاتی آزادی کے لیے دیا گیا مگر عملی طور پر سب سے زیادہ غلط استعمال کا شکار نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جامعات میں اساتذہ اور دیگر عملے کی بھرتی کا عمل، خواہ وہ مستقل بنیادوں پر ہو، کنٹریکٹ پر، ڈیلی ویجز پر یا وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر، شفافیت اور میرٹ کے بجائے اثر و رسوخ، ذاتی تعلقات اور سفارشات کے ساتھ ساتھ مالی مفادات کی نذر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ سلیکشن بورڈز اور وائس چانسلرز پر مختلف حلقوں کی جانب سے مالی، سیاسی اور ادارہ جاتی دباؤ بھی ڈالا جاتا ہے، اور نتیجتاً ایسے افراد کو ترجیح دی جاتی ہے جو قابلیت کے بجائے جملہ خدمات اور تعلقات کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں آنے والی نئی نسل کی تدریسی و تحقیقی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے، اور تعلیمی معیار مستقل اور مسلسل تنزلی کا شکار رہتا ہے۔
یہاں ایک اور نہایت تشویشناک پہلو اعلیٰ ڈگریوں کا کھوکھلا پن ہے۔ آج یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بعض افراد اپنی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تھیسز خود لکھنے کے بجائے پیسے دے کر تیار کرواتے ہیں۔ جب ایسے افراد تدریسی عہدوں پر فائز ہوتے ہیں تو وہ نہ صرف خود علمی اعتبار سے چور اور کمزور ہوتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی کم معیار اور چور راستوں کی تعلیم منتقل کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر بھرتیوں کا انحصار صرف انٹرویوز پر ہو، جو اپنی فطرت میں انتہائی حد تک موضوعی (subjective) ہوتے ہیں، تو میرٹ کا قتل ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
اس سنگین صورتحال کا تقاضا ہے کہ بھرتیوں کے موجودہ نظام پر ازسرِ نو نظرثانی کی جائے۔ کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ جامعات سے بھرتیوں کا اختیار واپس لے کر اسے کسی خودمختار اور معتبر ادارے، جیسے پبلک سروس کمیشن یا ہائر ایجوکیشن کمیشن، کے سپرد کر دیا جائے اور ایک ایسا نظام متعارف کروایا جائے جس میں تحریری امتحانات کے ذریعے امیدواروں کی حقیقی علمی استعداد کو جانچا جا سکے اور اس کے بعد شفاف انٹرویو کے ذریعے حتمی انتخاب کیا جائے۔ اس سے نہ صرف میرٹ کو فروغ ملے گا بلکہ اداروں میں آنے والے افراد کا معیار بھی بہتر ہو گا اور سیاسی بیساکھوں پر بھرتیاں بھی بہت حد تک رک جائیں گی۔ اسی طرح یونیورسٹیوں میں ڈیلی ویجز ملازمین کی بھرتی ایک اور بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ عمومی رجحان یہ ہے کہ وائس چانسلرز بڑی تعداد میں ڈیلی ویجز عملہ بھرتی کرتے ہیں، اور یہ بھرتیاں اکثر بااثر شخصیات، سیاسی نمائندوں یا دیگر طاقتور حلقوں کی سفارش پر کی جاتی ہیں۔ اس کے بدلے میں انتظامیہ اپنی دیگر ضروریات یا مفادات حاصل کرتی ہے۔ یہ ایک خطرناک روایت ہے جو نہ صرف مالی بوجھ میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ادارہ جاتی نظم و ضبط کو بھی متاثر کرنے کے علاوہ کرپشن کا امکان پیدا کرتی ہے۔ اس عمل کو محدود کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈیلی ویجز بھرتیوں کو مکمل طور پر کسی مرکزی اتھارٹی کے کنٹرول میں دیا جائے اور صرف انتہائی ناگزیر صورت میں ہی اس کی اجازت ہو۔
وزیٹنگ فیکلٹی کے حوالے سے بھی ایک منظم اور یکساں پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ مختلف جامعات میں ادائیگیوں کے نرخ، بھرتی کے طریقہ کار اور معیار میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ اگر اس نظام کو ایک مربوط ڈھانچے کے تحت لایا جائے، جہاں بھرتی کا عمل کسی غیر جانبدار ادارے کے ذریعے ہو اور امیدواروں کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے معیاری ٹیسٹ اور انٹرویوز لیے جائیں، تو اس سے انتظامی اور تدریسی معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
ایک اور سطحی روایت جو تیزی سے جڑ پکڑ رہی ہے وہ ہے ریٹائرڈ ملازمین کی دوبارہ بھرتی اور ان کو غیر ضروری توسیع دینا۔ یہ عمل نہ صرف نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع محدود کرتا ہے بلکہ اکثر اس کا مقصد مخصوص افراد کو نوازنا ہوتا ہے۔ اس روایت کو فوری طور پر ختم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ایک شفاف اور منصفانہ نظام قائم ہو سکے۔
یہ تمام مسائل درحقیقت اسی “خودمختاری” کے غلط استعمال کا نتیجہ ہیں جسے بغیر کسی مؤثر نگرانی کے جامعات کو دے دیا گیا۔ جب اختیارات کے ساتھ جوابدہی نہ ہو تو وہی ہوتا ہے جو آج پنجاب کی جامعات میں کھلے عام ہو رہا ہے۔ میرٹ کی پامالی، وسائل کا ضیاع، اور تعلیمی معیار کی مسلسل گراوٹ کے حوالے سے اب سوال یہ نہیں رہا کہ اصلاحات کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ اصلاحات کب اور کیسے ہوں گی؟ کیا حکومت، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ ادارے اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے؟ کیا وہ اس نظام کو درست کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے یا پھر یہ سب کچھ اسی طرح چلتا رہے گا؟ وقت کا تقاضا ہے کہ خودمختاری کی آڑ میں رائج ٹھیکیداری کو بے لگام اختیار کے بجائے ذمہ دارانہ نظام میں تبدیل کیا جائے اور ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جہاں میرٹ، شفافیت اور احتساب ہی بنیادی اصول ہوں کیونکہ اگر آج ہم نے ان اداروں کو بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو کل یہ ادارے صرف عمارتیں رہ جائیں گے جن میں نہ علم ہوگا، نہ تحقیق، اور نہ ہی وہ صلاحیت جو کسی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے قابل ہو سکے۔







