پنجاب کا دوسرا بڑا شہر ملتان تجاوزات میں نمبر ون، کارپوریشن افسران پر سنگین الزامات

ملتان (سٹاف رپورٹر) صوبہ پنجاب کے دوسرے بڑے شہر ملتان میں بلدیاتی نظام کی کارکردگی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ میونسپل کارپوریشن ملتان کے ریگولیشن و انفورسمنٹ ونگ کے افسران اور اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کر دیے گئے ہیں کہ انہوں نے شہر کے مرکزی اور مصروف ترین علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ منیر احمد (انفورسمنٹ انسپکٹر)، سب انجینئر و میونسپل آفیسر (ریگولیشن) اضافی چارج اعجاز ارشد سمیت متعدد مقامی ملازمین راؤ رفیع، حاجی محمد رزاق، جاوید انور، محمد اصغر کھوکھر (سپر نٹنڈنٹ ریگولیشن)، محمد علی قمر، عبدالحمید، محمد ابراہیم (لوکل لینڈ اسسٹنٹ سپروائزر) پر الزام ہے کہ انہوں نے شہر کے درجنوں اہم چوکوں اور مارکیٹوں میں پھیلتی ہوئی وسیع پیمانے کی تجاوزات کو روکنے میں ناکامی دکھائی۔ الزامات کے مطابق وہ علاقے جہاں صورتحال سب سے زیادہ ابتر رہی، ان میں وہاڑی چوک، بی سی جی چوک، ممتاز آباد مارکیٹ، چوک شاہ عباس، چوک عزیز ہوٹل، لودھی کالونی چوک، صدر بازار کینٹ، ایم ڈی اے چوک، پل براران، گل باغ گلگشت، گردیزی مارکیٹ، چونگی نمبر 6، بوسن روڈ، تحصیل چوک، چونگی نمبر 14، نیو ملتان الفلاح مارکیٹ، سدرن بائی پاس چوک، ہیڈ محمد والا روڈ اور ماڈل ٹاؤن چوک شامل ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان مقامات پر فٹ پاتھ، سروس روڈز اور حتیٰ کہ مرکزی شاہراہیں بھی ریڑھی بانوں اور غیر قانونی تعمیرات سے اٹ گئیں، جس سے ٹریفک جام معمول بن گیا۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف سامنے آیا ہے کہ ریگولیشن برانچ نے سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں قواعد کی سنگین خلاف ورزی کی۔ حکم نامہ نمبر 189/len مؤرخہ 5 اکتوبر 2022 کے تحت مقررہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ٹرک نمبر 6108 اور KAC-5225، جیپیں N.MLX-4382 اور MNK-1018، لوڈر فرنٹ بلیڈ MN3-1022 اور ٹریکٹر MNT-1023 کے پٹرول و اخراجات غیر قانونی نکلوائے گئے۔ مزید یہ کہ متعلقہ گاڑیوں کی لاگ بکس بھی برقرار نہیں رکھی گئیں، جو کہ مالی بے ضابطگیوں اور ممکنہ خردبرد کا واضح ثبوت سمجھی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے شواہد پر محکمہ جاتی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افسران و اہلکاران کو پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ 2005 (PEEDA Act-2005) کی دفعہ 2(b)(1) اور 2(n)(ii) کے تحت نااہلی اور بدانتظامی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق یہ دفعات سرکاری ملازمین کی سنگین غفلت اور مس کنڈکٹ پر سخت تادیبی کارروائی کی متقاضی ہیں، جن میں معطلی، جبری ریٹائرمنٹ یا ملازمت سے برطرفی تک شامل ہو سکتی ہے۔ شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر شہر کے مرکزی چوک اور شاہراہیں ہی تجاوزات سے محفوظ نہیں تو عام گلی محلوں کا کیا حال ہوگا؟ عوامی نمائندوں اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف محکمانہ کارروائی کافی نہیں، بلکہ ذمہ داران کے خلاف شفاف اور عبرتناک ایکشن لیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو قومی وسائل کے غلط استعمال اور عوامی مفاد سے کھیلنے کی جرات نہ ہو۔ یہ اسکینڈل ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر گیا ہے کہ کیا بلدیاتی ادارے واقعی عوامی خدمت کے لیے کام کر رہے ہیں یا محض اختیارات اور وسائل کے بے دریغ استعمال کا مرکز بن چکے ہیں؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں