پنجاب میں سرکاری اساتذہ کیلئے یکساں پروفیشنل ڈریس کوڈ نافذ

سکول اساتذہ کے ڈریس کوڈکانوٹیفکیشن

ملتان (سٹاف رپورٹر) سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے لیے معیاری اور یکساں ڈریس کوڈ نافذ کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں جاری کیے گئے مراسلے نمبر SOLACAD11/2020 مؤرخہ 19 فروری 2020 کے تحت تمام چیف ایگزیکٹو آفیسرز (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز) کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق تدریس ایک باوقار اور مقدس پیشہ ہے جو معاشرے میں عزت، اختیار اور اخلاقی قیادت کا تقاضا کرتا ہے۔ اساتذہ کی شخصیت، وقار اور پیشہ ورانہ شناخت کا عکس ان کے طرزِ عمل اور لباس میں نمایاں ہوتا ہے۔ واضح اور معیاری ڈریس کوڈ نہ صرف اساتذہ کے وقار میں اضافہ کرے گا بلکہ طلبہ، والدین اور معاشرے میں ان کے احترام کو بھی فروغ دے گا، جبکہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، مساوات اور سنجیدہ تعلیمی ماحول کو مضبوط بنائے گا۔ مراسلے کے مطابق 23 فروری 2026 سے پنجاب بھر کے تمام سرکاری سکولوں میں مرد و خواتین اساتذہ کے لیے مقررہ ڈریس کوڈ پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔ یہ ہدایات تمام کیڈرز، جنس اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر یکساں طور پر نافذ العمل ہوں گی۔ منظور شدہ ڈریس کوڈ کے تحت تمام اساتذہ تدریسی اوقات کے دوران سیاہ گاؤن پہننے کے پابند ہوں گے، جو علمی وقار، پیشہ ورانہ شناخت اور مساوات کی علامت ہوگا۔ سیاہ گاؤن مہذب اور باوقار لباس کے اوپر پہنا جائے گا جو ثقافتی، سماجی اور اخلاقی اقدار کے مطابق ہو۔ مرد اساتذہ کے لیے سادہ اور سنجیدہ رنگوں میں شلوار قمیض یا پینٹ شرٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہےجبکہ جوتے بند یا پٹی والے سینڈل پہننا لازم ہوگا۔ خواتین اساتذہ کے لیے باوقار اور مناسب لباس کے ساتھ بند جوتے یا سادہ سینڈل تجویز کیے گئے ہیں۔ ہدایت نامے کے مطابق ادارہ جات کے سربراہان روزانہ کی بنیاد پر ڈریس کوڈ پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ ضلعی سطح پر چیف ایگزیکٹو آفیسرز (DEAs) مؤثر نگرانی کے ذریعے اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔ محکمہ تعلیم نے اس معاملے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہدایات پر من و عن عمل کیا جائے اور کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس اقدام کو تعلیمی اداروں میں پیشہ ورانہ نظم و ضبط کے فروغ اور اساتذہ کی شناخت کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں