ملتان(کورٹ رپورٹر)ضلع کچہری ملتان سمیت صوبہ بھر کی کچہریوں میں جعلی وکلا کی روک تھام ممکن نہیں ہو سکی، لاہور ہائیکورٹ کی انکوائری کمیٹی کی جانب سے درج کروائے گئے مقدمات میں سزا نہ ہونے سے جعلی وکلاصوبہ بھر کی ضلع کچہریوں میں لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کچہری ملتان میں سب سے پہلے سال 2003ء میں جعلی وکلا کے خلاف مہم شروع کی گئی اور 14 جعلی وکلاکو بے نقاب کر کے کچہری میں داخلہ بھی بند کیا گیا۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً مختلف عرصوں میں جعلی وکلاکو بے نقاب کرنے اور ان کے خلاف معمولی کارروائیوں کا سلسلہ شروع رہا لیکن جعلی وکلاکی مکمل روک تھام ممکن نہیں ہو سکی۔ سال 2023ء میں سپریم کورٹ کے احکامات پر جعلی وکلا کی روک تھام اور کالے کوٹ میں چھپی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ہائیکورٹ کے جج جسٹس مسعود عابد نقوی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی۔اس کمیٹی نے صوبہ بھر میں پریکٹس کرنے والے 564 وکلا کو جعلی قرار دیتے ہوئے فہرست جاری کی جبکہ تقریباً 900 افراد کے خلاف جعلی طور پر پریکٹس کرنے یا عوام سے لوٹ مار کرنے والے افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کرائے گئے۔ اس وقت تقریباً 124 جعلی وکلا نے کاروائی نہ کرنے کی یقین دہانی پر تین لاکھ روپے فی کس جرمانہ ادا کیا اور اپنے لائسنس بھی واپس کر دیئے تھے۔ انکوائری کمیٹی کی جانب سے جعلی وکلا کی جاری فہرست نہ صرف بار ایسوسی ایشنز میں چسپاں کی گئی بلکہ تمام وکلا کی ڈگریوں کی تصدیق بھی کرائی گئی۔ اس فہرست کے مطابق تقریبا 40 وکلانے نیو کاسل یونیورسٹی امریکہ کے واشنگٹن ڈی سی کیمپس کی ڈگری جمع کرائی تھی جس کا آج تک وجود ہی نہیں ہے ۔اسی فہرست کے مطابق 227 جعلی وکلانے یونیورسٹی آف پنجاب، 41 نے زکریا یونیورسٹی ملتان، 7 نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، 67 نے کراچی یونیورسٹی، 42 نے جام شورو، 11 نے بھٹائی یونیورسٹی، دو نے اے کے جے اور اسلام آباد، ایک نے گومل یونیورسٹی کی ڈگری جمع کرائی تھی جبکہ کئی ممبران کے ریکارڈ میں اسناد اور شناختی کارڈ تک نہیں موجود تھے۔ جعلی وکلا کی اس فہرست میں جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں 12 وکلا، شجاع آباد، خانیوال، جہانیاں، دنیا پور، لیہ، جام پور، علی پور سے ایک، ایک، مظفر گڑھ سے 4، راجن پور سے 6، کوٹ ادو سے خاتون سمیت 4، بہاولپور اور وہاڑی سے 5،5 تونسہ شریف، میلسی، ڈی جی خان سے 2،2، رحیم یار خان بھکر، خان پور سے 3،3 جعلی وکلا کے نام شامل تھے۔ جھنگ اور احمد پور شرقیہ سے 4،4، صادق آباد سے 6، بہاول نگر سے 8، حاصل پور اور لیاقت پور سے ایک ایک جعلی وکیل کے نام کی فہرست جاری کی گئی۔ تاہم ان میں سے بیشتر جعلی وکلا کے خلاف کارروائی نہ ہونے اور درج کرائے گئے مقدمات میں سزا نہیں ہونے کی وجہ سے ملتان سمیت صوبہ بھر میں جعلی وکلا کی روک تھام ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ اس ضمن میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے جنرل سیکرٹری ملک سعادت حسین کی جانب سے جاری نوٹس میں ایک شخص کی تصویر کے ساتھ اطلاع کی گئی ہے کہ مذکورہ شخص بار ایسوسی ایشن کا ممبر نہیں ہے، اس لئے وکیل کا یونیفارم پہن کر احاطہ کچہری میں نہیں آئے دیگر صورت میں تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔







