تازہ ترین

پنجاب میں جامعات کے وی سیز نے قانون روند دیا، 1300 سی سی کے بجائے لگژری گاڑیاں استعمال

ملتان ( سٹاف رپورٹر) پنجاب کی مختلف سرکاری جامعات میں وائس چانسلرز کی جانب سے سرکاری قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزیوں کے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔ سرکاری پالیسی کے مطابق وائس چانسلرز صرف 1300 سی سی سرکاری گاڑی کے استعمال کے مجاز ہیں مگر ذرائع کے مطابق متعدد جامعات میں یہ حد محض کاغذی ثابت ہو رہی ہے۔ ایک معروف یونیورسٹی کے رجسٹرار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے وائس چانسلر نہ صرف 1800 سی سی GRANDY گاڑی استعمال کر رہے ہیں بلکہ یہ گاڑی ’’پروٹوکول‘‘ کے نام پر خریدی گئی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ وائس چانسلر کے لیے منظور شدہ 1300 سی سی گاڑی عملی طور پر ان کی اہلیہ کے زیرِ استعمال ہےجو قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح ایک اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بارے میں وی سی آفس کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ وہ روزمرہ کے تمام سرکاری و غیر سرکاری سفر فارچونر گاڑی پر کرتے ہیںجسے بھی پروٹوکول کا جواز دے کر استعمال میں رکھا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب قانون 1300 سی سی کی اجازت دیتا ہے تو FORTUNER کس ضابطے کے تحت فراہم کی گئی؟ ایک اور کیس میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک وائس چانسلر کو ان کے اسٹیٹ آفس نے باقاعدہ طور پر متنبہ کیا کہ وہ صرف 1300 سی سی گاڑی استعمال کرنے کے مجاز ہیں مگر موصوف نے اس انتباہ کو نظرانداز کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب سے ایک پراجیکٹ منظور کروایا اور اسی پروجیکٹ کی مد میں HAVAL گاڑی منظور کرا کے اپنے ذاتی استعمال میں رکھ لی۔ ماہرین کے مطابق ترقیاتی فنڈز کا اس طرح استعمال نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ ایک خاتون وائس چانسلر بذاتِ خود 1800 سی سی گاڑی استعمال کر رہی ہیںجبکہ ان کے شوہر جو ایک دوسری یونیورسٹی سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ اسی یونیورسٹی کی 1300 سی سی سرکاری گاڑی پر اکثر بہاولپور اور لاہور کے دورے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بارے میں روزنامہ قوم کے پاس ثبوت بھی موجود ہیں جس میں ایک وائس چانسلر کے صاحب زادے یونیورسٹی کی سرکاری FORTUNER پر کرکٹ میچ کھیلنے سٹیڈیم آئے ہوئے تھے۔ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر اچھی بھلی تنخواہ اور مراعات کے باوجود اپنی ذاتی گاڑی میں سرکاری پٹرول ڈلوا کر بچوں کو کالج بھیجتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل سرکاری وسائل کے ذاتی استعمال کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک صوبائی وزیرِ تعلیم سے دوران سینڈیکیٹ ایک یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر نے ان بے ضابطگیوں کا ذکر کیا، مگر جواب میں وزیرِ تعلیم کا کہنا تھا اس بات کو یہیں دبا رہنے دو۔ یہ بیان نہ صرف شفافیت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ تاثر بھی دیتا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں قانون سے بالاتر ایک مخصوص طبقہ موجود ہے۔ اساتذہ، ملازمین اور سول سوسائٹی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ آڈیٹر جنرل، اینٹی کرپشن اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ فوری طور پر ان معاملات کی آزادانہ تحقیقات کریں، تاکہ جامعات کو ذاتی عیاشی کے بجائے تعلیمی بہتری کے مراکز بنایا جا سکے۔ سوال اب بھی موجود ہے کیا قانون صرف کمزور کے لیے ہے، اور کیا پنجاب کی جامعات میں پروٹوکول قانون سے بڑا ہو چکا ہے؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں