پنجاب حکومت کا نرسنگ تعلیم پر ظلم، وظیفہ اور مفت تعلیم چھین لی، طالبات مایوس

ملتان (وقائع نگار) پنجاب حکومت کا نرسنگ تعلیم پر بڑا فیصلہ، سرکاری نرسنگ کالجز میں وظیفہ، مفت ہاسٹل اور فیس فری تعلیم ختم کر دی گئی ،پنجاب حکومت نے طبی تعلیم کے شعبے میں ایک اور “انقلابی” قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری نرسنگ کالجز کو مرحلہ وار پرائیویٹائزیشن کی طرف دھکیل دیا ہے۔ نرسنگ طالبات کے لیے سب سے بڑا جھٹکا یہ ہے کہ اب سرکاری نرسنگ کالجز میں بھی پرائیویٹ سیکٹر کی طرح فیس وصول کی جائے گی ماہانہ 31,600 روپے کا وظیفہ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ مفت ہاسٹل کی سہولت بھی واپس لے لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب کی نگراں اور موجودہ حکومت کے مشترکہ فیصلوں کے نتیجے میں Specialized Healthcare and Medical Education Department نے بی ایس نرسنگ (جنرک نرسنگ) 4 سالہ پروگرام کی نئی داخلہ پالیسی 2025-2026 جاری کر دی ہے۔ اس پالیسی کے تحت تمام 45 سرکاری نرسنگ کالجز میں صبح کی شفٹ کی 3100 سیٹیں15 سرکاری نرسنگ کالجز میں شام کی شفٹ کی اضافی 1400 سیٹیں کل ملاکر 4500 کے قریب سیٹوں پر داخلے ہوں گے لیکن اب یہ داخلے University of Health Sciences (UHS) کے زیرِ انتظام ہوں گے۔سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ اب سرکاری نرسنگ کالجز میں داخلہ لینے والی طالبات کو سالانہ ہزاروں روپے فیس خود ادا کرنی ہوگی جبکہ پہلے یہ تعلیم مکمل طور پر مفت تھی اور ماہانہ 31,600 روپے وظیفہ بھی ملتا تھا۔ اس کے علاوہ سرکاری ہاسٹلز میں مفت رہائش کی سہولت بھی ختم کر دی گئی ہے۔نرسنگ طالبات کا کہنا ہے کہ غریب گھرانوں کی لڑکیاں جو صرف وظیفے اور مفت تعلیم کی وجہ سے نرسنگ کرتی تھیں اب یہ شعبہ ان کی پہنچ سے باہر ہو جائے گا۔طالبات نے احتجاج کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو وہ سڑکوں پر نکل آئیں گی۔دوسری طرف حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم نرسنگ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور مالی بوجھ کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے لیکن نرسنگ کمیونٹی اسے طبی تعلیم کی پرائیویٹائزیشن کا پہلا مرحلہ قرار دے رہی ہے۔آنے والے دنوں میں طالبات کی طرف سے بڑے پیمانے پر احتجاج متوقع ہے۔ کیا پنجاب حکومت اس فیصلے پر نظرِثانی کرے گی یا نرسنگ تعلیم واقعی پرائیویٹ ہاتھوں میں چلی جائے گی؟

شیئر کریں

:مزید خبریں