پنجاب: بلدیاتی نظام کو موثر بنانے کیلئے یونین کونسلز تعداد میں بڑا اضافہ

ملتان(وقائع نگار)حکومت پنجاب نے صوبے میں بلدیاتی نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے یونین کونسلز کی تعداد میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔محکمہ بلدیات کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبہ بھر میں یونین کونسلز کی کل تعداد 4015 سے بڑھا کر 6577 کر دی گئی ہے۔ اس تبدیلی سے دیہی علاقوں میں 4056 یونین کونسلیں اور شہری علاقوں میں 2514 یونین کونسلیں قائم کی جائیں گی۔یہ اضافہ مقامی سطح پر بہتر نمائندگی، تیز تر سرکاری خدمات کی فراہمی اور انتظامی امور میں شفافیت لانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے گاؤں اور شہروں کے چھوٹے چھوٹے مسائل کا بروقت حل ممکن ہو گا اور عوام کو اپنے منتخب نمائندوں تک رسائی آسان ہو جائے گی۔نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صوبے کے اہم شہروں میں ٹاؤنز میونسپل کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا اور ملتان میں ٹاؤنز میونسپل کارپوریشنزہونگی۔راولپنڈی، فیصل آباد، بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی ٹاؤنز میونسپل کارپوریشنزاس کے علاوہ میونسپل کارپوریشنز کی تعداد 11 سے بڑھا کر 33 کر دی گئی ہے جبکہ میونسپل کمیٹیوں کی تعداد 182 سے بڑھ کر 220 ہو گئی ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کی ٹاؤنز کارپوریشنز میں یونین کونسلوں کی حدود اور تعداد کا تعین بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ نئی تقسیم کے مطابق ماڈل ٹاؤن 77 یونین کونسلیںشالیمار 72 یونین کونسلیںلاہور سٹی 69 یونین کونسلیںٹاؤن میونسپل کارپوریشن راوی 52 یونین کونسلیںنشتر 40 یونین کونسلیںعلامہ اقبال 37 یونین کونسلیںرائے ونڈ 32 یونین کونسلیںصدر 29 یونین کونسلیںواہگہ 25 یونین کونسلیںیہ تمام تبدیلیاں پنجاب بلدیاتی ایکٹ کے تحت کی گئی ہیں اور اس کا بنیادی مقصد مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا اور عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو تیز کرنا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ یونین کونسلز کی تعداد میں یہ اضافہ خاص طور پر دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات، صفائی، پانی اور دیگر مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگا۔ جبکہ شہری علاقوں میں بھی آبادی کے تناسب سے بہتر انتظام ممکن ہو گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں