ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان بار کونسل نے تعلیمی معیار پر پورا نہ اترنے والے تعلیمی اداروں کے علاوہ طلبا و طالبات کی رجسٹریشن طے شدہ وقت پر نہ کرنے کی سزا کے طور پر ملک بھر کی اہم ترین یونیورسٹیوں اور اعلی تعلیمی اداروں پر ایل ایل بی میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ تفصیل کے مطابق پاکستان بار کونسل کی طرف سے متعدد بار یونیورسٹیوں اور لا سے متعلقہ کالجوں کو متنبہ کیا گیا کہ وہ وقت پر طلبہ طلبات کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کروا لیں مگر مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں نے یا تو سرے سے کوئی جواب نہ دیا یا پھر مختلف معاملات کا بہانہ بنا کر اس سارے طریقہ کار کو غیر ضروری طول دیتے رہے۔ پاکستان بھر کے قانون کی تعلیم دینے والی جن اہم یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں نئے داخلوں پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے ان میں حیدرآباد انسٹی ٹیوٹ آف لا حیدرآباد سندھ، گورنمنٹ اسلامیہ لا کالج کراچی، ہمدرد یونیورسٹی کراچی، یونیورسٹی آف سندھ جامشورو، جامعہ کراچی، یونیورسٹی آف پنجاب لاہور، ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور شامل ہیں۔ پاکستان بار کونسل کی وارننگ میں کہا گیا کہ کونسل کے قوانین اور فیصلوں کی خلاف ورزی کی صورت میں کونسل متعلقہ یونیورسٹی اور اس کی قانون کی ڈگریوں کو منسوخ بھی کر سکتی ہے لہذا کمیٹی نے مناسب غور و خوض کے بعد پہلے قدم کے طور پر ایل ایل بی کے نئے داخلوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اوپر لکھی گئی ان یونیورسٹیوں کے پروگرام اور ایل ایل بی میں کسی بھی طالب علم کو داخلہ نہ دینے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں کیونکہ ان اداروں نے نہ تو اپنے لاء پروگرام کے طلباء کو رجسٹر کیا اور ساتھ ہی اپنے الحاق شدہ لاء کالجوں کے طلباء کی پاکستان بار کونسل کے ساتھ رجسٹریشن کے لیے بار بار کے خطوط اور یاد دہانیوں کے باوجود جان بوجھ کر اس پر عمل درآمد سے گریز کیا ہے چنانچہ ان تمام اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ پاکستان بار کونسل کے قواعد پر عمل کریں۔ ایل ایل ایم پروگرام، اس کے مستقل فیکلٹی ممبران کو نان پریکٹسنگ الاؤنس (این پی اے) اور کمپیوٹر لیب اور لاء لائبریری کی تفصیل مکمل طور پر فراہم کریں۔ تمام اداروں کو ہدایات جاری کی گئی کہ وہ ایل ایل ایم میں داخلہ لینے والے طلباء کی ہر سال کی علیحدہ علیحدہ فہرست فراہم کرے اس کے علاوہ گزشتہ پانچ سالوں کا پروگرام، مستقل اور آنے والے فیکلٹی ممبران کی تنخواہوں کے پیکج کی تفصیلات بھی فراہم کریں۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ان اداروں سے الحاق شدہ پرائیویٹ لاکالجز کو بھی وارننگ لیٹر جاری کیا جائے جنہوں نے اپنے طلباء کو پاکستان بار کونسل میں رجسٹر نہیں کرایا ہے اور ان بس کو خطوط جاری کیے جائیں کہ انہوں نے یاد دہانی اور خطوط کے باوجود پاکستان بار کونسل کے قواعد کی تعمیل کیوں نہیں کی۔ اور ایسی یونیورسٹی اور اداروں کے ایل ایل بی پروگرام میں مزید داخلے لینے کے لیے فوری طور پر پابندی عائد کر دی ۔






