ملتان (سٹاف رپورٹر) صدرِ پاکستان اور چانسلر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد نے پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر کو کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کا ریکٹر مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ تقرری کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد ایکٹ 2018‘‘ کی شق 12 (1)، (3) اور (4) کے تحت سمری کے پیرا نمبر 12 کو پیرا نمبر 18 کے ساتھ ملا کر دی گئی سفارشات کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ریکٹر کامسیٹس پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد یونیورسٹی کے مختلف کیمپسز کے دورے شروع کر دیئے ہیں۔ ان دوروں کے دوران انہوں نے کیمپسز کی مساجد میں بیٹھ کر ادارے کی ترقی کے لیے دعا بھی کی اور آئندہ تعلیمی و انتظامی منصوبوں پر بات چیت کی۔ تاہم یونیورسٹی کے بعض ملازمین اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ اب تک ریکٹر سیکریٹریٹ کی جانب سے دفتری سرگرمیاں باضابطہ طور پر شروع نہیں ہو سکیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک ریکٹر کی تمام تر توجہ میڈیا امیج بہتر کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ریکٹر آفس اسلام آباد کے جنرل منیجر نوید احمد خان نے کچھ ذاتی یا انتظامی وجوہات کی بنا پر دو ہفتے قبل ریکٹر سیکریٹریٹ چھوڑ کر قریبی عمارت میں اپنا دفتر قائم کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ماضی میں 2018-2019 کے دوران ڈاکٹر راحیل قمر اور نوید احمد خان کے درمیان انتظامی معاملات پر اختلافات بھی سامنے آئے تھے، جن میں انکریمنٹ کے معاملے پر تنازع شامل تھا، تاہم بعد ازاں اپیل کے ذریعے یہ معاملہ حل کر لیا گیا تھا۔







