پاک پتن سیکشن میں ریلوے اراضی پر فبضے، کمرشل استعمال، افسران مبینہ سرپرست

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) پاکپتن سیکشن میں تعینات انسپکٹر آف ورکس ریلوے احمد نے مبینہ طور پر ریلوے کوارٹروں اور قیمتی ریلوے اراضی پر اپنا ہی قانون نافذ کر رکھا ہے۔
انڈر ڈی ایس ملتان ہونے کے باوجود اعلیٰ حکام کے احکامات ماننے سے انکار اور غیر قانونی سرگرمیوں کی کھلی چھوٹ نے ریلوے انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پاک پتن سیکشن، میلسی ریلوے اسٹیشن پر واقع کوارٹر نمبر T-3 کو غیر قانونی طور پر مویشیوں کا (بھانہ) بنا دیا گیا ہے، جبکہ اسی مقام کے قریب ریلوے ٹریک کے چند قدم کے فاصلے پر ویگن اسٹینڈ اور ورکشاپ اسٹینڈ بھی بدستور قائم ہے، جو نہ صرف ریلوے قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ مسافروں اور شہریوں کی جانوں کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکا ہے۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل اسی مقام پر پھاٹک نمبر 59 کے قریب ایک افسوسناک حادثہ بھی پیش آ چکا ہے، جہاں ایک رکشہ ٹرین کی زد میں آ کر تباہ ہو گیا تھا، تاہم اس کے باوجود غیر قانونی اسٹینڈز کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہ کی جا سکی۔باوثوق ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ انسپکٹر آف ورکس کو ماضی میں کرپشن الزامات پر پاک پتن سیکشن سے تبدیل (جنگ ٹرانسفر) کیا گیا تھا، مگر چیف انجینئر اور اے جی ایم ای کی مبینہ سرپرستی سے ایک ماہ بعد دوبارہ اسی سیکشن میں تعینات کر دیا گیا۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ ریلوے اراضی کو پرائیویٹ شخص عبدالحمید کے ذریعے کرائے پر دیا جا رہا ہے، جو کالونی روڈ پر واقع ریلوے اراضی انسپیکٹر آف ورکس کی مبینہ آشیر باد سے کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کروا رہا ہے اور کرایہ بھی خود وصول کرتا ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈویژنل سطح پر ڈی ایس ریلوے کی جانب سے بھی انسپیکٹر آف ورکس کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی، جس سے افسران کی کمزوری یا مبینہ دباؤ واضح ہوتا ہے۔اس سنگین صورتحال پر عوامی و سماجی حلقوں نے سی ای او پاکستان ریلوے، ڈی جی ویجیلنس، اسسٹنٹ جنرل منیجر انفراسٹرکچر اور ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ریلوے اراضی اور کوارٹروں اور ویگن سٹینڈ رکشہ سٹینڈ ٹریک کے نزدیک غیر قانونی کمرشل استعمال کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، ذمہ دار افسر کو فوری تبدیل کیا جاے جبکہ اس بابت انسپکٹر اف ورکس سے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ میری انکوائری کلوز ہو گئی تھی جس کی وجہ سے مجھے واپس ٹرانسفر کیا گیا ہے میرے لمے نہ ہیں کہ کسی جگہ پر ویگن سٹینڈ بھانہ قائم ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں