پاک عرب کھاد فیکٹری کی بوسیدہ ٹیکنالوجی سے فضا زہریلی، ہر گھنٹے خارج ہوتی کاربن انسانی صحت کا قتل

ملتان (میاں غفار سے) انتہائی باوثوق، ٹیکنیکل اور تجربے کے لحاظ سے قومی سطح کے ایک کیمیکل انجینئر نے روزنامہ قوم کو بتایا ہے کہ ملتان شہر میں وقت کے ساتھ ساتھ شہری حدود کا حصہ بننے والی 51 سال پرانی پاک عرب فرٹیلائزرز نامی کھاد فیکٹری ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اتنی بوسیدہ اور غیر معیاری ہو چکی ہے کہ اسے اپنے سسٹم کو چلانے کے لیے ہر گھنٹے میں 25 میٹرک ٹن CO² یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں چھوڑنی پڑ رہی ہے جو کہ عالمی قوانین کے تحت گرین ہاؤس گیسوں میں آتی ہے اور یہ شدید ترین گلوبل وارمنگ کا سبب بن رہی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اس فیکٹری کا پلانٹ چھوٹا ہے مگر CO² کی پیداوار زیادہ ہے جسے مجبوراً فضا میں چھوڑنا پڑ رہا ہے جبکہ عالمی قوانین کے مطابق کوئی بھی صنعت CO² یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ ، NO² یعنی نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ ایک مخصوص مقدار سے زیادہ فضا میں خارج نہیں کر سکتی اور جب تک پاک عرب فرٹیلائزرز حکومت کے کنٹرول میں تھی تب تک اس کا خاص خیال رکھا جاتا تھا اور پروڈکشن کنٹرول میں رکھی جاتی تھی مگر اب نجکاری کے بعد اس بات کا خیال نہیں رکھا جا رہا بلکہ انتہائی حیران کن امر یہ ہے کہ پاک عرب فرٹیلائزرز کی انتظامیہ اسے کنٹرول کرنے کے دعوے کے ساتھ بعض دیگر ممالک کی فرٹیلائزر فیکٹریوں کے ساتھ باہمی معاہدے کے تحت مبینہ طور پر اچھی خاصی رقم بھی لے رہی ہے اور اس طرح کے معاہدوں کو کاربن ٹریڈ کا نام دیا جاتا ہے اور ایسے معاہدوں کے تحت گلوبل وارمنگ کے کنٹرول کی آڑ میں اگر کوئی کھاد بنانے والی فیکٹری زیادہ پروڈکشن لینا چاہے تو پاکستان سمیت دیگر ممالک میں اس طرح کی فیکٹریوں کو اربوں روپے سالانہ دینا پڑتے ہیں تا کہ مذکورہ ممالک اپنی پروڈکشن کنٹرول میں رکھیں اور یہ معاوضہ بھی انہیں اربوں روپے دینا پڑتا ہے ۔ دنیا کے ترقی پزیر ممالک میں ایسی صنعتیں موجود ہیں جو اس مد میں بھاری رقوم ترقی یافتہ ممالک کی صنعتوں سے وصول کر رہی ہیں کیونکہ ان ممالک میں ماحولیات کے بہت سخت قوانین موجود ہیں مگر اس طرح کے قوانین پاکستان میں صرف کتابوں کی حد تک تو موجود ہیں جن کو بآسانی مینیج کر لیا جاتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں