پاک بحریہ کے حفاظتی حصار میں تیل بردار 2 جہاز کراچی پہنچ گئے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار

اسلام آباد،کراچی(بیورورپورٹ،نیوزایجنسیاں) پاک بحریہ کےحفاظتی حصارمیںتیل بردار2جہاز کراچی پہنچ گئے،وزیراعظم شہبازشریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقراررکھنےکافیصلہ کیاہے۔تفصیل کےمطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے عالمی منڈی میں تیل کی مزید قیمتیں بڑھنے کے باوجود عوام سے کئے گئے وعدے کے مطابق اس مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم نے ہفتہ وار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے یا ردوبدل کی سمری موصول ہونے پر اپنا بیان جاری کیا اور کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھی ہیں مگر اس بار عام آدمی کا بوجھ کم کرنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا۔وزیراعظم نے کہا کہ اپنے وعدے کے مطابق جتنا ممکن ہوسکا ان مشکل حالات میں عوام تک ریلیف پہنچائیں گے، خطے میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی معیشت اس وقت دباؤ میں ہے جسکے پاکستان کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ دعا گو ہیں کہ عالمی سطح پر حالات بہتر ہوں اور عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام آئے۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرا سے 2 جہاز 10 سے 12 کروڑ لیٹر تیل کے ساتھ کراچی پہنچ گئے۔فجیرا سے پاک نیوی کے حفاظتی حصار میں پی این ایس سی جہازوں کی کراچی منتقلی ہوگئے۔پی این ایس سی حکام کا کہنا ہے کہ فجیرا سے 2 جہاز 10 سے 12 کروڑ لیٹر تیل کے ساتھ کراچی منتقل ہوگئے۔ فجیرا میں جہازوں پر حملوں کے بعد جہاز منتقلی کیلئے حفاظتی حصار ضروری تھا۔وزیر میری ٹائم جنید انور کا کہنا ہے کہ جہازوں کی محفوظ منتقلی پر پاک نیوی کے شکر گزار ہیں۔وزیر میری ٹائم نے کہا کہ وزارت خارجہ سے خلیج فارس میں پھنسنے 2 جہاز نکالنے کیلئے بھی ایران سے رابطے کی درخواست کی ہے۔دوسری جانب تیل کے محفوظ ذخائر جاری کرنے کے اعلان سے بھی قیمتیں نیچے نہ آسکيں۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، برطانوی خام تیل کی قیمت 9.29 ڈالر اضافےکے بعد 101.3 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 9.02 ڈالر اضافے کے بعد 96.27 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی تیل کی منڈی میں بڑی سپلائی رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ادھرامریکی اخبار نے کہا ہےکہ امریکا نے عارضی طور پر روسی تیل پر عائد پابندیاں اٹھا لیں۔امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ روسی تیل پر پابندیوں کی یہ چھوٹ 11 اپریل تک رہے گی۔اس حوالے سے امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے اپنے بیان میں کہا بدقسمتی ہےکہ اس اقدام سے روس کو فائدہ ہو سکتا ہے، روسی تیل پر پابندیوں کی یہ چھوٹ مختصر مدت کے لیے ہے۔دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورت حال اور آبنائےہرمز بند ہونے کی وجہ سے روس کو تیل سے یومیہ 150 ملین ڈالر اضافی آمدن ہورہی ہے۔برطانوی جریدے کے مطابق ایران جنگ کے بعد روسی تیل کی مانگ میں اضافہ ہو گیا ہے اور بھارت اور چین بڑی خریدار منڈیاں بن گئی ہیں۔برطانوی جریدے نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورت حال اور آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے روس کو تیل سے یومیہ 150 ملین ڈالر اضافی آمدن ہورہی ہے۔برطانوی جرید کے مطابق تیل برآمدات پر ٹیکس سے روس کو اب تک 1.3 سے 1.9 ارب ڈالر غیر متوقع فائدہ ہو رہا ہے، قیمتیں برقرار رہیں تو مارچ میں روس کو 3.3 سے 4.9 ارب ڈالر اضافی آمدن ہوسکتی ہے۔برطانوی جریدے کا کہنا ہےکہ بھارت کی روسی تیل درآمدات 1.5 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں اور ان میں ایک ماہ میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں