اسلام آباد،ریاض،دوحا،استنبول،بیجنگ،تہران، نیویارک(بیورورپورٹ،نیوزایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) پاک افغان کشیدگی پرسعودیہ،قطر، ترکیہ متحر ک ہوگئے،چین اورایران نے ثالثی کی پیشکش کردی،اقوام متحدہ نےدونوں ممالک سے تحمل کی اپیل کی ہے۔ چین نےاعلان کیاہےکہ ثالثی میں سہولت کاری کر رہے ہیں،ایران نے پاک افغان کشیدگی کم کرنے کیلئے مذاکرات کیلئےتعاون کی پیشکش کردی،ترک وزیرخارجہ نے پاکستان، افغانستان، قطر اور سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگوکی اورمعاملہ بات چیت سے حل کرنے پرزوردیا۔صدرپاکستان آصف زرداری نے کہاہےکہ امن کو کمزوری سمجھنے والے مضبوط جواب کیلئے تیار رہیں،کوئی بھی دشمن ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہوگا۔وزیراعظم شہبازشریف نےکہاکہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔وزیردفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان رجیم کوواضح پیغام دیتےہوئےکہاہےکہ ہماری تمہاری کھلی جنگ، اب دما دم مست قلندر ہوگا۔وزیرداخلہ محسن نقوی نےکہاکہ افغان طالبان رجیم نے حملہ کرکے بھیانک غلطی کی، سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔پاکستان کے دفترخارجہ نےکہاہےکہ اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔تفصیل کےمطابق چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کر دیا ہے۔چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد چین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور دونوں ممالک سے رابطے میں ہے تاکہ تناؤ کو کم کیا جا سکے۔ماؤ ننگ کا کہنا تھا کہ چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت اور ثالثی کے عمل میں سہولت کاری کر رہا ہے، بیجنگ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری اور کشیدگی میں کمی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف ہے اور دونوں ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، اختلافات کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کریں اور جلد از جلد جنگ بندی کو یقینی بنائیں تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ترجمان کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ اور پاکستان و افغانستان میں موجود چینی سفارت خانے متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں، دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں موجود چینی شہریوں اور تنصیبات کی سکیورٹی کو یقینی بنائیں۔علاوہ ازیںایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں سہولتکاری کی پیشکش کر دی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مناسب ہے افغانستان اور پاکستان اختلافات کو بات چیت سے حل کریں، پاکستان افغانستان بات چیت میں ایران سہولت اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن مدد کو تیار ہے۔افغانستان اور پاکستان اختلافات کو حسنِ ہمسائیگی اور مکالمے سے حل کریں۔دوسری جانب روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان فوری طورپر ایک دوسرے کے خلاف حملے روکیں اور دونوں ممالک اختلافات کو بات چیت سے حل کریں۔روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا درخواست کی گئی تو پاکستان اور افغانستان کے لیے ثالثی پرغور کیا جاسکتا ہے۔ادھراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹفین دوجارک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری جنرل صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں۔بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جاری کشیدگی کے دوران شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔اقوام متحدہ نے دونوں فریقین سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ادھرترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر اہم سفارتی رابطے کیے ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ترک سفارتی ذرائع نے بتایا کہ حاکان فیدان نے جمعہ کے روز پاکستان، افغانستان، قطر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں پاک افغان صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ترک ہم منصب سے گفتگو میں حالیہ علاقائی پیش رفت، خصوصاً پاکستان اور افغانستان کے درمیان صورتحال پر بات کی۔علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں پاکستان افغانستان سرحدی کشیدگی سمیت دیگر علاقائی امور زیر بحث آئے۔ادھرپاکستان کےصدر مملکت آصف علی زرداری نے افغان طالبان کی جارحیت کے جواب میں مسلح افواج کے ردعمل کو جامع اور فیصلہ کن قرار دیدیا۔صدر مملکت آصف زرداری نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ پاکستان امن اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ امن کو کمزوری سمجھنے والے مضبوط جواب کے لیے تیار رہیں، کوئی بھی دشمن ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہوگا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو معلوم ہے منصوبہ ساز اور سہولت کار کہاں موجود ہیں۔ خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہوں گے۔ قومی سلامتی پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔صدر مملکت نے کہا پاکستانی قوم اور افواج وطن کےدفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ہے۔ 5 برس سے دہشت گردی کی کارروائیوں پرشدید تشویش ہے۔ سفارتی کوششوں کے باوجود مثبت پیش رفت نہ ہوسکی۔وزیراعظم شہباز شریف نے افغان طالبان کو منہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیاہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا افواج جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے، افواج کاعزم ہے ملک کے امن اور تحفظ پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔وزیراعظم نے کہا فیلڈمارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج جذبے کے ساتھ فرائض انجام دے رہی ہے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ افواجِ پاکستان پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی سے لیس ہیں، افواج کسی بھی اندرونی یا بیرونی چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ وطنِ عزیز کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، دشمن کو ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری بہادر افواج اسوقت بھارت کی پراکسی طالبان و افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں، انشا ء اللہ شکست دشمن کا مقدر ہے۔خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ نیٹو کی افواج کے انخلاکے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ہو گا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور علاقہ میں امن پہ توجہ مرکوز کریں گے مگر طالبان نے افغانستان کو بھارت کی کالونی بنا دیا۔ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے، اب دما دم مست قلندر ہو گا۔ادھرترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں اور اشتعال انگیزی کے جواب میں دفاعی کارروائیاں کی گئیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کارروائیوں میں دہشت گرد تنظیموں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔دفترخارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان نے یہ اقدامات اپنے دفاع کے حق کے تحت شہریوں اورخطے کے تحفظ کے لیے کیے، طالبان حکومت یاکسی دہشت گرد گروہ کی مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں، دہشت گردی کے مسئلے پر سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے۔دفترخارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان کی خیرسگالی کو غلط سمجھا گیا اور افغان سرزمین سے حملوں میں اضافہ ہوا، افغان حکومت سےمطالبہ کیا کہ فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان کی سرگرمیاں فوری روکی جائیں۔ادھروفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےکہا کہ افغان طالبان نے حملہ کرکے بھیانک غلطی کی، افغان طالبان کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔انہوںنے افغان طالبان کی جانب سےشہری آبادی کو نشانہ بنانےکی شدید الفاظ میں مذمت کی۔







