پاکستان کی معیشت کا اصل مرض

پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے میں خرابی کا اعتراف اب خود ریاستی ادارے بھی کرنے لگے ہیں۔ مسابقتی کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر کبیر سدھو نے بڑے واضح اور کھلے الفاظ میں یہ حقیقت بیان کی کہ ملک کے بڑے معاشی شعبوں کے قوانین اور نگران نظام تیزی سے بدلتی ہوئی مارکیٹوں کی ضروریات سے پیچھے رہ چکے ہیں۔ اس مختصر اقتباس میں ایک پوری ریاستی ناکامی پوشیدہ ہے۔ جب منڈیاں جدید رخ اختیار کر چکی ہوں، پیداواری ڈھانچے بدل رہے ہوں، ٹیکنالوجی نیچے سے اوپر تک ہر شعبے کو نئی سمت دے رہی ہو لیکن ریاست قانون، انتظام اور ذہنی رویے میں وہیں کھڑی ہو جو کئی دہائیاں پہلے تھی، تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ معیشت مسابقت کھو دیتی ہے، مارکیٹ غیرشفاف ہو جاتی ہے، مافیا مضبوط ہوتے ہیں، پیداواری معیشت کی جگہ رینٹ سیکنگ کلچر پیدا ہوتا ہے اور سرمایہ کاری کا ہر دروازہ بند ہونے لگتا ہے۔ڈاکٹر سدھو کی گفتگو کا دوسرا حصہ یہ نشاندہی کرتا ہے کہ کم از کم ادارے خرابی کو سمجھ رہے ہیں اور تحقیق کا سلسلہ جاری ہے۔ مرکزِ مہارت نے توانائی، ایل این جی، چینی، فرٹیلائزر، انشورنس، انفراسٹرکچر اور سونے کی تجارت تک پندرہ سے زائد اہم شعبوں میں رکاوٹیں، اجارہ داریاں، کمزور ریگولیشن اور شفافیت کی کمزوریوں پر جامع مطالعات کیے ہیں۔ تاہم سوال یہی ہے کہ یہ رپورٹس حکومت کے فیصلوں میں کب اور کیسے ڈھلیں گی، کیونکہ پاکستان میں اصل بحران تشخیص کا نہیں، علاج کا ہے۔ ہر حکومت مسئلے سمجھتی ہے، ہر سال اصلاحات کا اعلان ہوتا ہے، مگر طاقتور طبقے، مافیائی مفادات اور ادارہ جاتی بے عملی اصلاحات کو راستے میں ہی روک دیتی ہے۔ہوا بازی کے شعبے کی مثال اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے۔ پاکستان کے پاس جنگی طیارہ سازی کی صلاحیت موجود ہے، مگر مسافروں کے جہاز تک نہیں بنا سکا۔ سائنسی مہارت تو ہے لیکن سول ہوا بازی کا ڈھانچہ بوسیدہ، مہنگا، بدانتظام اور بدعنوانی کا شکار ہے۔ یہی تضاد پاکستان کی معیشت کے کئی شعبوں میں موجود ہے۔ ہوابازی کا بازار پانچ ارب سے زیادہ ڈالر کی مالیت رکھتا ہے، سات لاکھ سے زائد روزگار دیتا ہے اور ہر سال کروڑوں مسافروں کو لے کر چلتا ہے، لیکن عملی نتیجہ خسارے، ناکارہ اداروں، ناقص انتظام اور کم ہوتی فضائی سروس کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ قواعد تو ہیں مگر جدید نہیں، ادارے تو ہیں مگر فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں، نجی سرمایہ آنا چاہتا ہے مگر راستہ تعصب، اجارہ داری اور انتظامی پیچیدگیوں سے بھرا پڑا ہے۔پاکستان کی معیشت کا اصل مسئلہ ریاستی بے عملی ہے۔ منصوبے بنائے جاتے ہیں مگر نافذ نہیں کیے جاتے۔ اصلاحات کی بات ہوتی ہے مگر جب طاقتور گروہوں کے مفاد متاثر ہوتے ہیں تو ریاست خاموش ہو جاتی ہے۔ ادارے حقائق بیان کرتے ہیں مگر حکومت انہیں پڑھنے تک کی سکت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ چینی کی صنعت پر تحقیق ہوئی مگر ذخیرہ اندوزی نہ رکی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا دعویٰ کیا گیا مگر گردشی قرض ہر سال مزید بڑھا، فرٹیلائزر اور سونے کی مارکیٹ کا مطالعہ ہوا مگر مافیا بدستور مضبوط رہے۔ اس خلا کا نام معیشت کی بیماری ہے، اور یہ بیماری سیاسی رضا، ریاستی ہمت اور ادارہ جاتی استقلال کے بغیر ختم نہیں ہو سکتی۔اگر پاکستان واقعی ترقی چاہتا ہے تو اس کے لیے قوانین کی جدیدیت کا مطلب صرف ترامیم کرنا نہیں بلکہ طاقتور مفادات کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنا ہے، اداروں کو خود مختاری دینا ہے، تحقیق کو پالیسی میں بدلنا ہے اور نااہلی و بدعنوانی کو سرپرستی دینے والے رویوں کو ختم کرنا ہے۔ مسابقتی کمیشن کی وارننگ ہوابازی کے ماہرین کی تشخیص اور معیشت کی چیختی حقیقت ایک ہی سوال اٹھاتی ہے — کیا پاکستان ابھی تک اصلاح کے اس مرحلے تک پہنچا جہاں خوف کے بغیر پالیسی نافذ کی جا سکے؟ اگر ریاست نے ہمت کی تو یہ ملک پلٹ سکتا ہے۔ اگر نہیں تو یہ بیان، یہ تحقیق اور یہ اداریہ بھی دوسروں کی طرح محض کاغذی نشانیاں بن کر رہ جائیں گے اور پاکستان اپنی فرسودہ معیشتی سوچ کے بوجھ تلے اور گہرائی میں ڈوبتا چلا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں