پاکستان کی جامعات میں معیار تعلیم کا فرق بے نقاب، این یو ایس ٹی برتر، بی زیڈ یو بدتر، کارکردگی صفر

ملتان( – سٹاف رپورٹر) کیو ایس ایشین یونیورسٹیز رینکنگ 2026 کے نتائج نے ایک بار پھر پاکستان کی جامعات کے درمیان معیارِ تعلیم اور تحقیقی صلاحیت کے نمایاں فرق کو بے نقاب کر دیا ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) نے ملک بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے اپنی برتری ثابت کر دی ہے جبکہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی (BZU) ملتان اس فہرست میں سترہویں نمبر پر رہی جس پر ماہرین تعلیم اور سابق طلبہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق NUST نے مختلف اشاریوں میں شاندار نتائج حاصل کیے۔ فی فیکلٹی تحقیقی مقالوں کی شرح 54، علمی شہرت 75اعشاریہ1 ،فیکلٹی تا طلبہ تناسب 81،پی ایچ ڈی فیکلٹی 61اعشاریہ1 جبکہ فارغ التحصیل طلبہ کے روزگار کے امکانات 98اعشاریہ7 فیصد رہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی NUST کی پوزیشن مضبوط دیکھی گئی جہاں غیر ملکی طلبہ کی شرح 17اعشاریہ6 اور غیر ملکی فیکلٹی 14اعشاریہ9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے اعداد و شمار مایوس کن رہے۔ رپورٹ کے مطابق فی فیکلٹی تحقیقی مقالے صرف 45اعشاریہ6 ،علمی شہرت 33اعشاریہ 3 ،پی ایچ ڈی فیکلٹی 32 فیصد جبکہ بین الاقوامی فیکلٹی کی شرح صفر رہی۔ روزگار کے مواقع کے اعتبار سے بھی یونیورسٹی کی کارکردگی انتہائی کمزور رہی جو صرف 30اعشاریہ 8 فیصد تک محدود تھی۔ ماہرین تعلیم نے BZU کی کمزور کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کی تحقیقی سرگرمیوں، عالمی روابط اور فیکلٹی کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے کوئی جامع حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق ادارہ مالی وسائل کی کمی، غیر فعال ریسرچ کلچر اور غیر مؤثر انتظامی فیصلوں کا شکار ہےجس کے باعث اس کی کارکردگی مسلسل زوال کا شکار ہے۔ ایک تعلیمی تجزیہ کار نے کہا :جب ایک بڑی سرکاری جامعہ عالمی سطح پر صفر بین الاقوامی فیکلٹی کے ساتھ کھڑی ہوتو یہ اعداد و شمار نہیں بلکہ انتباہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ BZU جیسے اداروں کو اگر بین الاقوامی معیار کے قریب لانا ہے تو تحقیق، فنڈنگ اور فیکلٹی ڈویلپمنٹ کے میدان میں ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات ناگزیر ہیں۔ دوسری جانب ناقدین نے اس امر پر بھی تنقید کی ہے کہ حال ہی میں BZU کے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ میں یونیورسٹی کی دوسری پوزیشن پر جشن منایا مگر عملی طور پر یونیورسٹی کی تحقیقی اور تدریسی کارکردگی میں کوئی نمایاں بہتری دکھائی نہیں دیتی۔ماہرین کے مطابق اگرچہ ٹائمز رینکنگ کے کچھ اشاریوں میں BZU نے پیش رفت کی ہےلیکن تحقیق، روزگار اور عالمی مسابقت جیسے بنیادی معیار میں کارکردگی بدستور تشویشناک ہے۔ ایک ماہر نے کہایہ وقت جشن منانے کا نہیں، احتساب اور جائزے کا ہے۔ اگر یونیورسٹی اپنی کمزوریوں کو تسلیم نہیں کرے گی تو آنے والے سالوں میں یہ فاصلہ مزید بڑھ جائے گا۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ NUST اور BZU کے درمیان کارکردگی کا یہ فرق محض دو اداروں کی کہانی نہیں بلکہ پورے نظامِ تعلیم میں پائی جانے والی ساختی ناہمواری کی علامت ہے۔ ملک میں چند جامعات عالمی معیار کے مطابق خودمختاری، جدید تحقیق اور صنعتی شراکت داری سے ترقی کر رہی ہیں جبکہ زیادہ تر صوبائی جامعات مالی دباؤ، بیوروکریسی اور سیاسی اثر و رسوخ میں جکڑی ہوئی ہیں۔ ایک تعلیمی مبصر نے کہا NUST کی کامیابی ایک وژن، واضح پالیسی اور تحقیقی ثقافت کی پیداوار ہےجبکہ BZU کی زبوں حالی اس نظامی کمزوری کی عکاس ہے جس میں تعلیمی ادارے انتظامی مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی کو اپنی توجہ محض رینکنگ اور جشن تک محدود رکھنے کے بجائے تحقیق، بین الاقوامی تعاون اور فیکلٹی ٹریننگ پر مرکوز کرنی چاہیے۔ یونیورسٹی میں تحقیقی فنڈز کی منصفانہ تقسیم، میرٹ پر اساتذہ کی تقرری اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان عملی اشتراک سے ہی حقیقی بہتری ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کی پالیسیوں کو ازسرِنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ تمام جامعات کو یکساں مواقع، وسائل اور تربیت فراہم کی جا سکے۔ بصورتِ دیگر چند ممتاز ادارے تو ترقی کرتے رہیں گےلیکن اکثریت عالمی معیار سے مزید دور ہوتی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں