ملتان (وقائع نگار) پاکستان میں ڈگری ویریفیکیشن کا پیچیدہ عمل ہزاروں روپے اور وقت کا ضیاع، ون ونڈو سسٹم کی ضرورت پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور پروفیشنلز کو ڈگری کی ویریفیکیشن اور اٹیسٹیشن کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، جو نہ صرف مالی طور پر بوجھل ہے بلکہ وقت اور ذہنی تناؤ کا باعث بھی بنتا ہے۔ ایک عام شہری کی شکایت نے اس مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے، جہاں یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد اسے متعدد اداروں سے ویریفیکیشن کرواتے ہوئے ہزاروں روپے خرچ کرنے پڑے اور کلرکس کی غیر ضروری باتیں بھی سہنی پڑیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ادارے ایک ون ونڈو سسٹم کے تحت کام کریں تاکہ یہ عمل آسان اور آن لائن ہو سکے۔ایک طالب علم نے بتایا کہ “میں نے یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی، پھر اسے واپس بھیج کر ویریفائی کروایا۔ اس کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کو بھیجا، جہاں مزید تصدیق ہوئی۔ پھر وزارت خارجہ (MOFA) کو بھیج کر HEC کی سٹیمپ چیک کروائی۔ اس پورے عمل میں ہزاروں روپے خرچ ہوئے، وقت ضائع ہوا، اور وہ کلرک جو خود میٹرک پاس ہوتے ہیں، ان کی تنقید بھی سہنی پڑی۔” یہ شکایت ہزاروں طلبہ کی آواز کی عکاسی کرتی ہے جو بیرون ملک نوکری یا مزید تعلیم کے لیے ڈگری کی اٹیسٹیشن چاہتے ہیں۔HEC نے حال ہی میں blockchain-based degree attestation system متعارف کروایا ہے، جو manual verification کو ختم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس سسٹم کے تحت طلبہ HEC کے آن لائن پورٹل پر ڈگری اور ٹرانسکرپٹس اپ لوڈ کرتے ہیں، جو یونیورسٹی کے ڈیش بورڈ پر جاتے ہیں۔ یونیورسٹی کی تصدیق کے بعد دستاویزات blockchain پر محفوظ ہو جاتی ہیں، جو فوری اور tamper-proof رسائی فراہم کرتی ہیں۔ یہ سسٹم 2026 میں مکمل طور پر فعال ہونے کی توقع ہے اور حکومت، وزارت خارجہ، ایمبیسیز اور پرائیویٹ اداروں6کی ویب سائیٹ عمل اب مکمل طور پر آن لائن ہے، جہاں فیس 1-link کے ذریعے ادا کی جاتی ہے اور پروفائل میں تصدیق کے بعد اٹیسٹیشن کی درخواست کی جاتی ہے۔72a6f107177aتاہم، MOFA کی اٹیسٹیشن اب بھی الگ عمل ہے۔ وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق، اٹیسٹیشن کے لیے کوئی فیس نہیں لی جاتی، لیکن دستاویزات کی فوٹو کاپی ضروری ہے۔ VFS Global کے ذریعے آن لائن اپلائی کیا جا سکتا ہے، اور پروسیس عام طور پر 2 کام کے دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ ایجنٹس کے ذریعے تیز پروسیسنگ دستیاب ہے، جو اضافی چارجز وصول کرتے ہیں، لیکن یہ عمل اب بھی HEC سے الگ ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کو متعدد جگہوں پر جانا پڑتا ہے۔ ویریفیکیشن آسان اور آن لائن بنانا چاہیے، جہاں آن لائن ہونے کے باوجود تاخیر کی وجہ سے ایجنٹس 16-17 ہزار روپے وصول کرتے ہیں HEC خود بھی blockchain سسٹم کی پروموشن کر رہا ہے، جیسا کہ ان کی پوسٹس میں دیکھا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر HEC، MOFA اور متعلقہ یونیورسٹیز ایک ون ونڈو سسٹم کے تحت کام کریں تو یہ عمل مزید آسان ہو سکتا ہے۔ ایک تعلیمی مشیر نے کہا کہ “ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کے تحت تمام اداروں کو انٹیگریٹ کرنا چاہیے تاکہ طلبہ کو ایک ہی پورٹل سے تمام ویریفیکیشن مل سکے۔” حکومت کو اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، ورنہ برین ڈرین کا مسئلہ مزید شدید ہو جائے گا۔







