ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک کو پاکستان میں آپریشنز کے لیے این او سی جاری کر دیا گیا، پی ٹی اے دو ہفتوں میں لائسنس فراہم کرے گا۔
پاکستان میں تیز ترین سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے آغاز کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ (سپارب) نے اسٹارلنک کو این او سی جاری کر دیا، جس کے بعد کمپنی کو اب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے باضابطہ لائسنس ملنے کا انتظار ہے۔
اسٹارلنک نے اسپیس ریگولیٹری بورڈ کے تمام تقاضے پورے کر لیے، جبکہ وزارت داخلہ کی کلیئرنس کے بعد سپارب نے این او سی جاری کیا۔ پی ٹی اے آئندہ دو ہفتوں میں اسٹارلنک کو لائسنس جاری کر دے گا، جس کے بعد کمپنی پاکستان میں اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کا آغاز کر سکے گی۔
اسٹارلنک نے پہلے ہی پی ٹی اے میں لائسنس کے لیے درخواست دی تھی اور ٹیکنیکل و بزنس پلان جمع کروا چکا ہے۔ کمپنی نے پاکستان میں رجسٹریشن کے تین مراحل کامیابی سے مکمل کیے، جن میں:
اب آخری مرحلے میں پی ٹی اے کی جانب سے لائسنس کا اجرا باقی ہے، جس کے بعد اسٹارلنک پاکستان میں اپنی سروسز شروع کرے گی۔ پی ٹی اے اسٹارلنک کی فراہم کردہ دستاویزات کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سروس موجودہ نیٹ ورک میں کسی رکاوٹ یا خلل کا باعث نہ بنے۔
پاکستان میں اسٹارلنک کی آمد سے صارفین کو تیز ترین سیٹلائٹ انٹرنیٹ میسر آئے گا، جو دور دراز علاقوں میں بھی تیزرفتار اور مستحکم کنیکٹیویٹی فراہم کرے گا۔







