اسلام آباد،تہران،واشنگٹن(بیورورپورٹ، نیوزایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں امن اورایران امریکاجنگ رکوانے کیلئے پاکستان متحرک ہے، 48 گھنٹےپیشرفت کیلئے اہم ہیں۔سعودیہ، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گے،کل چارفریقی اجلاس ہوگا،وزیراعظم شہبازشریف نےایک ہفتے میں ایرانی صدر سے دوسرا رابطہ کیاہے۔شہبازشریف اورمسعودپزشکیان نےکشیدگی میں کمی اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیاگیا۔دفترخارجہ کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، حقان فیدان اورڈاکٹر بدر عبدالعاطی کے دورے کے دوران اہم علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی ،نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نےچینی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگوکی اورخطےکی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا ،یمنی حوثی بھی جنگ میں شا مل ہوگئے، کویت میں 6 امریکی جہاز تباہ، سعودیہ میں 29 فوجی زخمی ہوگئے، ٹرمپ کے اعلان کے باوجود اسرائیل نے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملہ کر دیا۔تفصیل کےمطابق نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی آج سے اسلام آباد کادوروزہ دورہ کریں گے۔ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان میں اہم سفارتی سرگرمیوں کا آغاز ہونے جا رہا ہے، دورے کے دوران تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اہم علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں سرفہرست ہوں گی۔ مہمان وزرائے خارجہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے جہاں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ترجمان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ اس دورے سے مختلف شعبوں میں تعاون اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر سفارتی روابط اور مشاورت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں کل 30 مارچ کو چار فریقی اجلاس منعقد ہوگا، اجلاس میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے، اجلاس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کریں گے، اجلاس خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں منعقد کیا جا رہا ہے، اجلاس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرنا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک ہفتے کے دوران دوسرا ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں جاری حالیہ کشیدگی کو کم کرنے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان گفتگو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، دونوں رہنماؤں کا خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں بالخصوص گزشتہ روز شہری تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کی اور مشکل حالات میں ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔شہباز شریف نے 1900 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے لیے دعا کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امریکا، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا جن کا مقصد امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔انہوں نے پاکستان کے امن اقدام کی بھرپور حمایت کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اجتماعی کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی کوئی مؤثر راہ نکلے گی۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم کی مخلصانہ سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے اپنا مؤقف بیان کیااور مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس ضمن میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔وزیراعظم نے ایرانی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔قبل ازیں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ وانگ ژی سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔اعلامیے کے مطابق اسحاق ڈار نے عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد مؤثرراستہ قرار دیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اسحاق ڈار نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا مذاکرات میں سہولت کاری کی پاکستانی کوششیں اصولی مؤقف کا مظہر ہیں۔چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ ایران امریکا امن مذاکرات کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہیں، بین الاقوامی برادری ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی حوصلہ افزائی کرے۔چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین نے کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا، چین نے پاکستان کی سہولت کاری کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق اور اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر رابطہ اور تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جنگ30ویں روز میں داخل ہو گئی ہے، اسرائیل نے توانائی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جواب میں ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بم برسا دیئے، کویت میں 6 امریکی جہاز تباہ کر دیئے۔روسی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے، لوگ شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔اسرائیل نے ایران کی جانب سےکلسٹر بموں سے حملوں میں ایک شخص کی ہلاکت اور 2 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق فوج نے کویت کی الشویخ بندرگاہ پر امریکا کے 6 ٹیکٹیکل جہازوں کو نشانہ بنایا ہے ، 3 لڑاکا جہاز سمندر میں غرق ہوگئے جبکہ دیگر 3 میں آگ لگی ہوئی ہے۔پاسداران انقلاب کے مطابق وعدہ صادق چہارم نامی آپریشن کے تحت دشمن پر حملے کی 84 ویں لہر میں دبئی کے ساحل اور ایک ہوٹل میں امریکی اہلکاروں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے،دونوں حملوں میں کئی امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔سعودی عرب کے علاقے الخرج میں پرنس سلطان ایئربیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس میں ری فیولنگ اور ایئرسپورٹ فلیٹ کو ہدف بنایا گیا، امریکی میڈیا کے مطابق اس حملوں میں کم از کم 29 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی سپورٹ بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے، حملہ عمان کے صلالہ بندرگاہ سے خاصے فاصلے پر کیا گیابیان میں کہا گیا کہ ہدف سمندر میں موجود امریکی معاون جہاز تھا۔کویت کی ریاستی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد ڈرون حملے ہوئے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔کویتی ایئرپورٹ کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی، صورتحال کی نگرانی جاری ہے، ڈرون حملوں کے باوجود پروازوں پر اثرات کی تفصیلات سامنے نہ آ سکیں۔عراق کی مجنون آئل فیلڈ میں ڈرون گر گیا، دھماکہ نہیں ہوا، کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔وزارت دفاع کے مطابق ڈرون گرنے کے واقعے سے تیل کی تنصیبات محفوظ رہیں۔اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے اسرائیلی حدود کی جانب داغے گئے ایک میزائل کی نشاندہی کی ہے، جنگ کے آغاز کے بعد یمن سے داغا جانے والا یہ پہلا میزائل ہے۔یمنی مسلح افواج (حوثی دھڑے) کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلیگرام پر بیان میں کہا کہ براہِ راست فوجی مداخلت کے لیے ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں‘ اور یہ اقدامات درج ذیل صورتوں میں کیے جائیں گے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران سے وابستہ ہیکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے ذاتی ای میل ان باکس تک رسائی حاصل کر لی ہے، ہیکرز نے ثبوت کے طور پر ڈائریکٹر کی تصاویر اور دیگر دستاویزات انٹرنیٹ پر شائع کر دیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے نہ کرنے کے اعلان کے باوجود اسرائیل نے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملہ کر دیا۔اسرائیل نے ایران کے ایک بجلی گھر، 2 اسٹیل کے کارخانوں اور ایک سویلین نیوکلیئر تنصیب کو نشانہ بنایا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اسرائیلی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے امریکا کے ساتھ رابطے سے ہوئے، ایران اسرائیلی جرائم کی بھاری قیمت وصول کرے گا۔ایرانی خبر ایجنسی مہر کے مطابق تہران میں واقع ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر امریکی، اسرائیلی حملے کی اطلاعات آئی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ ایران ڈیل چاہتا ہے، ہم مذاکرات کر رہے ہیں اور اس کا کوئی نتیجہ بھی نکلےگا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنی پڑے گی، ایران اب کبھی بحری جنگی جہاز نہیں بنا سکےگا، ہم ایرانی رجیم کے خطرے کو ختم کر رہےہیں، ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسرائیل کےخلاف استعمال کر سکتا تھا۔ایران کے شمال مغربی صوبہ زنجان پر امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ شہری شہید اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق زنجان کے ڈپٹی گورنر علی صادقی نے بتایا کہ شہادتیں اُس وقت ہوئیں جب ایک رہائشی عمارت کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔بعدازاں ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کی لہروں سے نشانہ بنایا۔ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں بنایا۔اسرائیلی فوج کے لبنان پر حملوں میں شدت آ گئی، لبنانی زمینوں پر قبضے کے لیے اسرائیل فوجی دستے بھی لڑ رہے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے دو سینئر عہدیدار شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کے ایوب حسین یعقوب اور یاسر محمد مبارک کو نشانہ بنایا گیا، بیروت میں حملے میں ایوب حسین یعقوب شہید ہو گئے۔اسرائیلی فضائی اور بحری افواج کی جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں، اسلحہ ڈپو، لانچرز اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔اسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں چار شامی کسان شہید ہو گئے ہیں جبکہ 9 افراد زخمی بھی ہوئے، کسان کھیتوں میں کام کر رہے تھے جب اسرائیل نے فضائی حملہ کیا۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ لبنان سےاینٹی ٹینک میزائل فائر کیا گیا، راکٹ حملےمیں 6 اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے۔لبنانی وزارت صحت کے مطابق لبنان میں اسرائیلی حملوں سے اب تک 1142 افرادشہید ہو چکے ہیں جبکہ 3315 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
جنوبی لبنان پر اسرائیلی فوج کے حملے میں 2 لبنانی صحافیوں سمیت 4 افراد شہید ہوگئے۔عرب اور لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملےمیں لبنانی چینل کی گاڑی کونشانہ بنایا گیا، شہید ہونے والے صحافیوں میں ایک خاتون صحافی فاطمہ فتونی بھی شامل ہیں۔ شہید ہونے والے دوسرے صحافی علی شعیب ہیں۔







