پاسکو افسران کی لوٹ مار،ڈائریکٹر نےڈیڑھ کروڑ کا ڈالہ ہیر پھیر سے ہتھیا لیا

پاسکو افسران کی لوٹ مار،ڈائریکٹر نےڈیڑھ کروڑ کا ڈالہ ہیر پھیر سے ہتھیا لیا

ملتان میں تعینات افتخار الدین گجر نے دو روز قبل اپنے ایک دوست کے نام پرڈالہ خرید کر اس سے اوپن لیٹر اور سٹامپ لیکر اپنے پاس رکھ لیا

ڈائریکٹر نے 500روپے بوری کے حساب سے 29ہزار بوری گیلے وال میں پرچیز آفیسر خلیل بھٹی کو بھجوائی ،7 ہزار بوری تین دوستوں میں تقسیم

22ہزار بوری بار دانہ کاشتکاروں کو 15کلو فی بوری گندم کے حساب سے دی جارہی ، 400 روپےفی بوری رشوت اب1500روپے تک پہنچ گئی

لودھراں کی ضلعی انتظامیہ نےمخصوص آڑھتیوں اور ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ پہنچانے کیلئےمبینہ طور پر رواں ہفتے میں 3کروڑ روپے کی سہولت کاری کی

ملتان( سٹاف رپورٹر) محکمہ خوراک پنجاب کی طرف سے گندم کی خریداری پر مکمل پابندی کے بعد پاسکو افسران نے کرپشن اور لوٹ مار کی انتہا کر رکھی ہے۔ ملتان میں تعینات ڈائریکٹر پاسکو نے دو روز قبل ڈیڑھ کروڑ مالیت کا ڈالہ اپنے ایک دوست کے نام پر خرید کر اس سے اوپن لیٹر اور اسٹامپ لیکر اپنے پاس رکھ لیا۔ مذکورہ ڈائریکٹر پاسکو افتخار الدین گجر نے گزشتہ سے پیوستہ روز500روپیہ فی بوری کے حساب سے 29ہزار بوری گیلے وال کے علاقے میں موضع گلندہ اور موضع ردانی میں پرچیز آفیسر خلیل بھٹی کو بھجوائی جس نے اس میں سے 7ہزار بوری اپنے تین کاروباری ساتھیوں عمیر سکھیرا، عبدالرحیم عرف موچھا اور لطیف ڈھڈی کو بھجوا دی اور یہ مشہور کردیا کہ وہ سنٹر سے زبردستی باردانہ اٹھا کر لے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ عمیرسکھیرا کو 2700بوری باردانہ ، عبدالرحیم عرف موچھا کو 1800بوری اور لطیف ڈھڈی کو2500 بوری بار دانہ دیا گیا جبکہ 29000میں سے 22ہزار بوری بار دانہ کاشتکاروں کو 15کلو فی بوری گندم یا پھر اس کے برابر رقم جو کہ تقریباً 1462 روپے فی بوری بنتی ہے کے حساب سے دی جارہی ہے۔ اس حساب سے پاسکو افسران سے 400فی بوری رشوت سے شروع ہونے والا باردانہ اب1500روپے فی بوری کی رشوت تک لے گئے ہیں جو کہ محض پانچ دن قبل 1200روپے فی بوری تھمایا پھر 10کلو گندم کی بوری لیا جارہا تھا جو بڑھا کر 1450 روپے کیا ۔15کلو گندم فی بوری کردیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب میں کرپشن کے حوالے سے لودھراں بازی لے چکا ہے جبکہ تمام اضلاع اور تحصیلوں جہاں جہاں پاسکو کے سنٹر ہیں انتظامی افسران باردانہ پاسکو سنٹروں سے زبردستی لے کر آڑھتیوں اورسٹاکسٹ حضرات کو فروخت کررہے ہیں۔ لودھراں کی ضلعی انتظامیہ نے مبینہ طور پر رواں ہفتے میں 3کروڑ روپے کی سہولت کاری چند مخصوص آڑھتیوں اور ذخیرہ اندوزوں کے لیے کی ہے اور طریقہ کار یہ اپنایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ نے نئی بستی سنٹر پر سجاد نامی انچارج سے ریکارڈ قبضے میں لیا مگر اس شام اے ڈی سی جی ریونیو لودھراں آمنہ مودودی نے تمام قبضہ شدہ ریکارڈ واپس کردیا اور بعد ازاں اسی سنٹر سے باردانہ چند مخصوص کمیشن ایجنٹوں کو فروخت کرکے مبینہ طور پر انتظامی عملے نے 3کروڑ روپیہ کھرا کرلیا۔ ضلعی انتظامیہ کے دبائو پر غلام نازک گھلو نامی ایک کمیشن ایجنٹ کو 3ہزار بوری باردانہ فراہم کردیا گیا ۔ پورے جنوبی پنجاب میں پاسکو عملے کی لوٹ مار جاری ہے اور کنگال کاشتکاروں کو ہر سنٹر پر لوٹا جارہاہے مگر حکومت پاکستان اور پاسکو کے اعلیٰ حکام کسی بھی قسم کا نوٹس نہیں لے رہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں