ملتان (کرائم سیل رپورٹ) کوٹ ادو کے نواحی چک 556 ٹی ڈی اے میں 13 روز قبل ٹک ٹاکر اور یو ٹیوبر ’’ویلا منڈا‘‘کے والد صادق ملانہ کو ان کے گھر سے چار نامعلوم افراد گن پوائنٹ پر اغوا کرکے لےگئے جسکی اطلاع مقامی تھانہ چوک سرور شہید کو دی گئی۔ اغوا کی خبر صادق ملانہ کے بیٹے یو ٹیوبر شہزاد عرف ویلا منڈا کو دی گئی جو عمرہ کی سعادت کے لئے سعودی عرب تھا، اس نے خانہ کعبہ کے سامنے روتے ہوئے اپنے والد کی بازیابی کیلئےاعلیٰ حکام سے مدد کی ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کردی جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایکشن لیتے ہوئے مغوی کی فوری بازیابی کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا تو تمام متعلقہ ادارے متحرک ہوگئے اور ڈی پی او مظفر گڑھ موقع پر پہنچ گئے۔ ڈی ایس پی پولیس ،سی سی ڈی، سپیشل برانچ و دیگر ایجنسیز کے افسران نے موقع پر واقعہ کی چھان بین شروع کر دی اور گھر میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کو قبضے میں لیکر وقوعہ والے دن کی ویڈیو کو قبضے میں لیکر تحقیقات کا آغاز کر دیا اور 16نومبر کو مغوی کے بیٹے کی مدعیت میں چار نامعلوم اشخاص کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔ ادھرسوشل میڈیا پر مہم شروع ہوگئی۔ اغوا کے چار دن بعد مغوی کی بازیابی کی خبر کیساتھ چار اغوا کاروں کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبر بھی شامل تھی۔سوشل میڈیا ڈسٹرکٹ مظفرگڑھ پولیس کے پیج پر بھی ویلا منڈا کے والد صادق کی بازیابی اور ملزمان کی لاشوں کی تصاویر بھی شیئر کر دی گئیں یوں اس اغواکا ڈراپ سین ہوگیا تھا۔ مقابلے میں مارے جانے والوں کی لاشیں جب انکے آبائی علاقے پہنچیں تو وہاں قیامت خیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ جنازے میں شریک ہوئے اور بچہ بچہ گواہی دے ر ہا تھا یہ مارے جانے والے چاروں لوگ معصوم اور بیگناہ ہیں۔ ان پر آج تک پولیس ریکارڈ میں مرغی چوری کا بھی الزام نہیں تھا۔ اس صورتحال پرسوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور میڈیا کے نما ئندگان نے بستی علیانی کا رخ کیا اور حقائق کی چھان بین کےبعدسوشل میڈیا پر پولیس مقابلے میں مارے جانیوالے مزدوروں کے قتل پر نظام انصاف پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا۔ اغوا کے روز پولیس کیطرف سے جاری کی جانیوالی ویڈیو میں جو یو ٹیوبر کے گھر اور ڈیرے پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں سے لی گئی، اس میں دو موٹر سائیکلوں پر6 لوگ آتےہیں جنھوں نے چادریں اور منہ پر ماسک چڑھا رکھا تھا۔ وہ ایک دوسرے کی ویڈیو بناتےہیں اور سیلفیاںلیتےہیں پھر ایک کمرے میں جوتیاں اتار کر داخل ہوتے ہیں اور جب باہر نکلتے ہیں پھر دوبارہ جوتیاں پہن کر روانہ ہوجاتے ہیں۔ اب سوشل میڈیا پر یہ سوال کیا جار ہاہے کیا واردات کرنے والے کسی مسجد میں گئے تھے جو وہاں جوتیاں اتاری تھیں؟ یہ سوال بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پوچھا جا رہا ہے کہ چھ میں سے چار لوگوں کو ہی کیوں مار ڈالا گیا اور باقی دو ملزمان کہاں گئے؟ جب ان چار ملزمان کو کوٹ ادو کی گنجان آبادی میں ایک کرائے کے مکان سے گرفتار کیا گیا تو کیا اغوا کار اتنے اناڑی تھے کہ مغوی کو اپنے ہی مکان پر بٹھائےرکھا اور اسی کے موبائل سے ان کے گھر والوں سے تاوان کا تقاضا کرتے رہے؟ ان تمام سوالات کا جواب ڈھونڈنے کیلئے روزنامہ قوم کی ٹیم پولیس مقابلے میں ہلاک شدگان کی بستی علیانی تونسہ پہنچی جہاں پانچ روز گزرنے کے بعد بھی لوگ تعزیت کیلئےآ رہے تھے۔ روزنامہ قوم کی ٹیم نے پولیس مقابلے میں ہلاک ہونیوالوں کے بھائی، چچا ،والد اور ماموں سے الگ الگ سوال کئےجس میں ا نہوں نے بتایا کہ وہ انتہائی غریب لوگ ہیں۔ ادھر بستی میں بس انکے رہنے کو کچے گھر ہیں وہ اور ان کے بچے محنت مزدوری کرکے زندگی گزارتے ہیں۔ منیر احمد جو نوید اور جمشید کا ماموں ہے اور سلیم اور مبشر کا چچانے بتایا ان لوگوں نے کوٹ ادو میں بھی محنت مزدوری کی غرض سے مکان کرائے پر حال ہی میں لیا تھا۔ وہ گھر بھی ادھر بستی میں رہنے والے ایک شخص کا ہے۔ جمشید ولد محمد اقبال بی اے پاس تھا وہ وہاں آن لائن کام کرنے کی غرض سے شفٹ ہواتھا۔ ایک کزن اسکا لاہور میں مزدوری کرتا تھا وہ کچھ روز کے لئے اسکے پاس کوٹ ادو رک گیا تاکہ دکان کرائے پر لیکر اسکی سیٹنگ کراسکے۔ باقی دو محنت مزدوری کرتے تھے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ سب ویلا منڈا کے فین تھے اور اپنےچینل کے سلسلے میں ان سے ملنے گئے جہاں اس کے والد سے ملے۔ ان کو چائےپلائی اور بتایا کہ وہ عمرہ پر گیا ہواہے جب واپس آئےگاملوا دونگا تو یہ لوگ وہاں سے واپس آگئے۔ دو تین روز بعدہمیں بستی میں سے ایک شخص نے آ کر بتایا کہ آپکے بچے پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں یہ انکی تصاویر ہیں ۔مبشر کے والد احمد عیسیٰ ،نوید کے بھائی محبوب،سلیم اور مبشر کے چچا منیر احمد نے بتایا کہ ہمارے بچوں کو بیگناہ مارا گیا ہے۔ پولیس ریکارڈ میں کوئی ایک پرچہ انکے خلاف د کھادیں،ہم خون معاف کر دینگے۔ دوسری طرف ڈی پی او کو ویلا منڈا اور اسکے والد نے ہار پہنائے مگر ڈی پی او نے نہ تو میڈیا کے سامنے حقائق رکھے نہ ہی صادق ملانہ کا کوئی ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا۔ ورثا نے کہا کہ ہماری وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل ہے کہ ہمارے بچوں کے موبائل کا ڈیٹا نکلوا کر چیک کیا جائے اور صادق ملانہ کے موبائل کا بھی ڈیٹا چیک کرایا جائے اور جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔







