ٹریفک پولیس کی منظم لوٹ مار،کرائے کے لفٹروںپرجعلی پرچیوں سے روزانہ لاکھوں روپے,پرائے

ٹریفک پولیس کی منظم لوٹ مار،کرائے کے لفٹروںپرجعلی پرچیوں سے روزانہ لاکھوں روپے,پرائے

ملتان کے مصروف ترین کاروباری علاقوں میں گاڑیاں اٹھوانے اور جعلی پرچیاں تھما کردو ہزار روپے فی گاڑی کے حساب سےاینٹھنے کاپروگرام جاری

روزانہ سو سے ڈیڑھ سو گاڑیاں کرائے پر حاصل لفٹروں کےذریعے رش کے اوقات کے بعد بھی رات 11بجے تک اٹھائی جاتی،پرچی فیس لیکر ’’آزادی‘‘

ٹریفک پولیس کے پاس جو دوسرکاری لفٹر ہیں انہیں کینٹ ،گلگشت،بوسن روڈ سمیت کاروباری مراکز سے ہٹا کر جنرل بس سٹینڈ اورکم رش میں بھیج دیا گیا

کینٹ ، گلگشت، بوسن روڈ، گھنٹہ گھر کے علاقوں میں چار لفٹر جوگاڑیاں اٹھاتے ، ان کو واپسی کے عوض 2ہزار روپیہ فی گاڑی جرمانہ خزانے میں جمع نہیں ہورہا

جرمانہ پولیس کی طرف سے بنائے گئے علیحدہ کھاتوں میں جمع ، آر پی او کو شہری کی طرف سے ثبوتوں کے ساتھ درخواست،تحقیقات جاری،کارروائی پر سوالیہ نشان

ملتان( میاں غفار سے) کرائے پر حاصل کیے گئے لفٹروں کے ذریعے ملتان کے مصروف ترین کاروباری علاقوں میں گاڑیاں اٹھوانے اور جعلی پرچیاں تھما کر لاکھوں روپیہ یومیہ کی منظم لوٹ مار کا انکشاف ہوا ہے اور دو ہزار روپے فی گاڑی کے حساب سے روزانہ سو سے ڈیڑھ سو گاڑیاں ان کرائے پر حاصل کیے گئے لفٹروں کے رش کے اوقات کے بعد بھی رات 11بجے تک اٹھائی جاتی ہیں جو دو ہزار فی پرچی کے عوض چھوڑ دی جاتی ہیں جبکہ دوسری طرف ملتان ٹریفک پولیس کے پاس جو دوسرکاری لفٹر ہیں انہیں ملتان کینٹ ،گلگشت اور بوسن روڈ سمیت کاروباری مراکز سے ہٹا کر جنرل بس سٹینڈ اور دیگر کم رش والے علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس نے لفٹر جو گاڑیاں اٹھاتے ہیں ان کے لیے تو سرکاری پرچی ملتی ہے اور یہ رقم بھی سرکار کے اکائونٹ میں جاتی ہے مگر جو چار لفٹر ملتان کینٹ ، گلگشت، بوسن روڈ اور گھنٹہ گھر کے علاقوں میں گاڑیاں اٹھاتے ہیں وہ پرائیویٹ پارٹیوں سے کرائے پر حاصل کیے گئے ہیں اور ان پر عملہ ٹریفک پولیس ہی کا تعینات ہے مگر یہ پرائیویٹ لفٹر جو گاڑیاں اٹھاتے ہیں ان کو واپس کرنے کے عوض 2ہزار روپیہ فی گاڑی جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہورہا کیونکہ جو خود پرنٹ کرائی ہوئی جرمانے کی پرچیاں دی جاتی ہیں ان کی رقوم بھی پولیس کی طرف سے بنائے گئے علیحدہ کھاتوں میں جمع ہوتی ہیں ۔ اس صورتحال کے حوالے سے آر پی او ملتان کو شہری کی طرف سے ثبوتوں کے ساتھ درخواست دائر کی گئی ہے جس پر تحقیقات جاری ہیں تاہم اس پر کیا کارروائی ہوئی ابھی تک اس کا پتہ نہیں چل سکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں