ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی اور سینئر مشیر علی شمخانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر سخت اور دوٹوک ردعمل ظاہر کیا ہے۔
علی شمخانی کا کہنا ہے کہ ایرانی قوم امریکا کے نام نہاد ’’ریسکیو‘‘ کے اصل چہرے سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے عراق، افغانستان اور غزہ میں امریکی مداخلت کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں، جنہیں کسی طور پر مدد یا نجات نہیں کہا جا سکتا۔
انہوں نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی سلامتی کی جانب کسی بھی بہانے سے بڑھنے والا ہاتھ، اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا جائے گا۔
سینئر ایرانی مشیر کے مطابق اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا اقدام کی کوشش کی گئی تو اس کا ایسا جواب دیا جائے گا جو حملہ آور کو پچھتانے پر مجبور کر دے گا۔
علی شمخانی نے واضح کیا کہ ایران کی قومی سلامتی ایک ناقابلِ سمجھوتہ سرخ لکیر ہے اور اس پر کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطہ کسی بھی اشتعال انگیزی، مہم جوئی یا غیر ذمہ دارانہ بیانات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں جاری احتجاجی صورتحال اور امریکی بیانات کے باعث خطے میں تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔







