ٹرمپ کا ایرانی حکومت گرانے کا منصوبہ، پلان بی تیار، سرینڈر کا مطلب نہیں جانتے: تہران

واشنگٹن،تہران(نیوزایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ نے ایرانی حکومت گرانے کا منصوبہ،پلان بی تیارکرلیا، تہران نےانتباہ کرتےہوئےکہاہےسرینڈر کا مطلب نہیں جانتے۔تفصیل کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلان اے یعنی ایران پر محدود حملے کی ناکامی کی صورت میں پلان بی پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پلان بی کے تحت ایران کی موجودہ حکومت کی تبدیلی کا اٹل فیصلہ کرلیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر محدود حملوں کے باوجود ایران نے لچک نہ دکھائی تو ایک وسیع فوجی مہم شروع کی جا سکتی ہے۔جس کا مقصد براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کردار اور ایران کی موجودہ حکومت و اعلیٰ ترین سیاسی نظام کو ختم کرنا ہوگا۔قبل ازیں پلان اے کے تحت صدر ٹرمپ نے معاہدہ کے لیے ایران پر محدود حملوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا اعلان کیا تھا۔تاہم اگر اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو رواں سال کے آخر میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کہیں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور اب ماہرین ان ممکنہ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران پر حملے کا فیصلہ کب کر سکتے ہیں۔اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ نے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی سفارتی معاہدہ طے نہیں پاتا تو حملے کے حوالے سے چار مختلف صورتیں سامنے آ سکتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق پہلا امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ رواں ہفتے پیر سے جمعرات کے درمیان کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔یہ اس صورت میں ممکن ہے جب صدر ٹرمپ پہلے ہی فوجی کارروائی کا ذہن بنا چکے ہوں اور صرف مخصوص عسکری اہداف کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہوں۔تاہم اس کا انحصار جمعرات کو ہونے والی امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی میٹنگ پر بھی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے کوئی ایسی پیشکش سامنے آئی جسے صدر ٹرمپ نے فوراً مسترد کر دیا تو کارروائی جلد ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق، دوسرا اور سب سے مضبوط امکان یہ ہے کہ حملہ اگلے ہفتے کے آغاز یا وسط میں ہو۔تیسرا آپشن رمضان المبارک کے خاتمے یعنی 19 مارچ کے بعد کا ہے۔اسرائیلی ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ مقدس مہینے میں جنگ شروع کر کے اپنے مسلمان اتحادیوں کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہیں گے، کیونکہ اس سے خطے کے دیگر ممالک کی دفاعی تیاریوں پر اثر پڑ سکتا ہے اور ایران کو اپنے حق میں عوامی ہمدردی حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔تاہم اس طویل انتظار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ بھاری اخراجات ہیں جو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی بحری بیڑوں اور ہزاروں فوجیوں کو الرٹ رکھنے پر آ رہے ہیں۔چوتھا اور سب سے کمزور امکان یہ ہے کہ حملہ مستقبل بعید تک ٹل جائےلیکن ماہرین اسے اس لیے مشکل سمجھتے ہیں کیونکہ امریکا اربوں ڈالر خرچ کر کے اپنے جنگی جہازوں کو زیادہ دیر تک بغیر کسی نتیجے کے وہاں نہیں رکھ سکتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پوری صورتحال میں اسرائیل کا کردار بھی انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ پہلے یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ ایران صرف امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، لیکن اب اسرائیلی قیادت کے بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی اس کارروائی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ادھربھارت کی وزارتِ خارجہ نے ایران میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ امریکی حملے کے خدشات کے باعث بھارتی شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔تہران میں بھارتی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر جو بھارتی شہری اس وقت ایران میں موجود ہیں، وہ دستیاب ذرائع بشمول کمرشل پروازوں کے ذریعے جلد از جلد ایران چھوڑ دیں۔بھارتی وزارتِ خارجہ کے اندازے کے مطابق ایران میں عموماً تقریباً 10 ہزار بھارتی شہری موجود ہوتے ہیں۔ ادھرایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران سرینڈر کا مطلب نہیں جانتا، اپنی سرزمین کی خلاف ورزی قبول نہیں کریں گے۔تہران میں پریس بریفنگ میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ حق دفاع استعمال کرتے ہوئے کسی بھی جارحیت کے خلاف ردعمل دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایران کوطویل اور تھکا دینے والے مذاکرات سےکوئی فائدہ نہیں، کسی بھی ایٹمی معاہدے کے لیے ایرانی قوم کےمفادات سرخ لکیر ہیں۔اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ خطے میں یورپی فوجی دستوں کو دہشت گرد سمجھا جائے گا، محدود حملوں سمیت کوئی بھیامریکی کارروائی جارحیت سمجھی جائے گی۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعودپزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت کے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں، امریکی اقدامات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعودپزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے۔ حالیہ مذاکرات میں عملی تجاویز کا تبادلہ ہوا اور حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں۔ایرانی صدر نے کہا کہ ہم امریکا کے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اورکسی بھی ممکنہ صورتِ حال کے لیے تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں