چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور

تازہ ترین

ٹرمپ حکومت کا بڑا فیصلہ: ’الحرہ‘ چینل کی فنڈنگ روک دی گئی، عملہ فارغ، نشریات بند

واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی حکومت کے زیرِ نگرانی چلنے والے عربی زبان کے ٹی وی چینل “الحرہ” کی مالی معاونت بند کر دی ہے، جس کے بعد ادارے نے اپنی نشریات معطل کرنے اور بیشتر عملے کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
“الحرہ” ٹی وی 2004 میں اُس وقت قائم کیا گیا تھا جب امریکہ نے عراق جنگ کے دوران قطر کے ٹی وی چینل “الجزیرہ” کی خبروں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں کا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے ایک متبادل پلیٹ فارم کا آغاز کیا۔
فنڈنگ کی بندش ایلون مسک کی زیر قیادت جاری سرکاری بجٹ میں کٹوتیوں کی وسیع پالیسی کا حصہ ہے۔ رواں سال مارچ میں ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ تمام سرکاری میڈیا اداروں کو دی جانے والی مالی امداد بند کی جائے گی۔ اس فیصلے کی زد میں آنے والا ایک اور ادارہ “وائس آف امریکہ” (VOA) بھی ہے، جہاں کئی ملازمین عدالتی کارروائی کا راستہ اپنا چکے ہیں۔
“الحرہ” کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ روایتی ٹی وی نشریات کو بند کر دیا جائے گا، تاہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر محدود عملے کے ساتھ نشریاتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ چینل ہفتہ وار 22 ممالک میں 3 کروڑ ناظرین تک پہنچنے کا دعویٰ کرتا رہا ہے، مگر ہمیشہ سے اسے “الجزیرہ”، “العربیہ” اور “اسکائی نیوز عربیہ” جیسے معروف چینلز کے ساتھ سخت مقابلے کا سامنا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں