ٓآئی جی پنجاب کے احکامات بہاول پورپہنچنےتک کمزور،آرپی اوکی ناک تلےٹائوٹ سسٹم طاقتور

ٓآئی جی پنجاب کے احکامات بہاول پورپہنچنےتک کمزور،آرپی اوکی ناک تلےٹائوٹ سسٹم طاقتور

ملتان (قوم ریسرچ سیل) آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے صوبے بھر میں رضاکار اور ٹائوٹ سسٹم کے خاتمے کے احکامات بہاولپور میں دم توڑ گئے اور ٹائوٹ سسٹم زور و شور سے جاری ہے جبکہ ریجنل انویسٹی گیشن برانچ کا تو سارے کا سارا نظام ایک ٹاؤٹ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور کی ناک کے عین نیچے RIB آفس میں ظفر عرف ظفری نامی ٹاؤٹ کوریجنل انویسٹی گیشن برانچ کے سنگین نوعیت کے مقدمات کی انکوائریوں کی فائلوں تک مکمل رسائی ہے۔ ایس پی RIB اور دیگر متعدد ڈی ایس پیز آفس کی موجودگی کی وجہ سے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی تمام تر پرائیویسی لیک ہو رہی ہے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کامران خان کے واضح احکامات ہیں کہ تھانوں سمیت مختلف برانچوں سے رضاکاروں اور ٹاؤٹ مافیا کا داخلہ فوری بند کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات درج کئےجائیں۔ اسی حکم کے تحت ڈی پی او بہاولپور نے عبداللہ نامی ٹاؤٹ اور رضاکار کے خلاف کارروائی شروع کی تو وہ نہ صرف منظر سے غائب ہو گیا بلکہ پنجاب چھوڑ کر سندھ منتقل ہو گیا۔ اسی طرح ریجنل انویسٹی گیشن برانچ کے انسپکٹر اکرم وٹو نے اپنے تمام تر اختیارات اور سنگین نوعیت کے مقدمات کی انکوائریوں پر مشتمل فائلیں ایک رضاکار ٹاؤٹ ظفر عرف ظفری جس نے ایک سابقہ DPO بہاولپور کے رضاکاروں کو معاوضہ کی مد میں دیئے گئے چیک کی رقم بڑھا کر اور DPO کے جعلی دستخط بھی کیے اور پکڑا گیا تھا، کے سپرد کر رکھی ہیں اور اس کو کھلے عام فرنٹ مین رکھا ہوا ہے۔ ظفر عرف ظفری ہر وقت اس برانچ میں موجود ہوتا ہے جس کا ریکارڈ CCTV فوٹیج کی مدد سے حاصل کیا جا سکتا ہے حالانکہ کریمنل ریکارڈ کا حامل ظفر عرف ظفری خود بھی متعدد خواتین کو جنسی ہراسمنٹ سمیت سنگین نوعیت کے مقدمات میں چالان شدہ ہے جن میں مقدمہ نمبر 379/17 تھانہ سول لائنز، مقدمہ نمبر 373/17 تھانہ صدر بہاولپور، مقدمہ نمبر 392/20 تھانہ صدر بہاولپور اور مقدمہ نمبر 473/22 بھی تھانہ صدر بہاولپور میں درج درج ہے۔ اس کے علاوہ ظفری ٹائوٹ کے خلاف متعدد درخواستیں بھی شامل ہیں جن کے مقدمات ہی درج نہیں کئے گئے اور پولیس نے باہر سے ہی تمام درخواستیں نمٹا دیں یہ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ظفر عرف ظفری نامی رضار کار/ فرنٹ مین رینج بھر سے مقدمات کے سلسلہ میں آنے والی خواتین کو بھی مبینہ طور پر ان سے موبائل نمبرز لیکر ان کو ہراساں کرتے ہوئے ناجائز مراسم قائم کرنے میں بھی ملوث ہے اور اس کے خلاف اس نوعیت کا پہلے بھی مقدمہ درج ہے۔ ریجنل انویسٹی گیشن برانچ آفس جوکہ RPO آفس سے ملحقہ ہےاس میں دیگر اعلیٰ افسران کے آفس بھی موجود ہیں جن میں ایس پی RIB اور دیگر متعدد ڈی ایس پیز آفس کی موجودگی کی وجہ سے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی پرائیویسی لیک ہو جاتی ہے۔ اس معاملے پرموقف لینے پر پولیس ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ایسی کوئی بات ان کے علم میں نہیں ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں