ملتان ( سٹاف رپورٹر) اوکاڑہ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی جانب سے ہراسمنٹ کے الزامات نے جہاں ایک متاثرہ خاتون استاد کی داد رسی کا سوال کھڑا کیا ہے، وہیں اس کیس نے یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین میو کی نالائقی، نااہلی اور انتظامی ناکامیوں کو بھی پوری شدت سے بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ معاملہ اب محض ایک ہراسمنٹ انکوائری تک محدود نہیں رہا بلکہ اعلیٰ تعلیم کے پورے نظام، قوانین اور ضابطوں کی کھلی تضحیک بن چکا ہے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے واضح، تحریری اور سخت قوانین موجود ہیں جن کے مطابق ایک منظور شدہ ریگولر پی ایچ ڈی ٹیچر زیادہ سے زیادہ پانچ پی ایچ ڈی اور سات ایم فل طلبہ کو سپروائز کر سکتا ہے۔ یہ بھی قانون کا حصہ ہے کہ اگر کسی استاد کے پاس پی ایچ ڈی کے طلبہ موجود نہ ہوںتب بھی وہ 12 ایم فل طلبہ کی سپروائزری کا مجاز ہو جاتا ہے۔ یہ ضابطہ کوئی سفارش نہیں بلکہ ایک سخت اور لازمی منظور شدہ طریقہ کار ہےجس کی خلاف ورزی کو ہائر ایجوکیشن کے نظام میں سب سے بڑی وائلیشن تصور کیا جاتا ہے۔ اوکاڑہ یونیورسٹی میں قانون کو کاغذ کا پرزہ سمجھ کر روند دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے ملک بھر سے ایک ہزار سے زائد طلبہ کو ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں رجسٹر کر لیا جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہاں نہ تو مطلوبہ تعداد میں پی ایچ ڈی پروفیسرز موجود ہیں اور نہ ہی HEC سے منظور شدہ پی ایچ ڈی سپروائزرز۔ حیران کن امر یہ ہے کہ کئی ڈیپارٹمنٹس ایسے ہیں جہاں ایچ ای سی کی طے شدہ پالیسی کے مطابق متعلقہ مضمون میں پروفیسرز کی مطلوبہ تعداد بھی موجود نہیں جو ایچ ای سی کے قواعد کے مطابق پی ایچ ڈی یا ایم فل کروانے کے اہل ہوں۔ قانون بالکل واضح ہے ایم فل اور پی ایچ ڈی صرف ریگولر فیکلٹی ہی پڑھا سکتی ہے۔ وزٹنگ فیکلٹی کو نہ ایم فل اور نہ ہی پی ایچ ڈی کی سپروائزری کا کوئی حق حاصل ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی ایم فل یا پی ایچ ڈی پروگرام کے آغاز اور طلبہ کی رجسٹریشن سے قبل ایچ ای سی سے باقاعدہ این او سی لیا جاتا ہے جو مخصوص پروفیسر کے نام کے ساتھ جاری ہوتا ہے اور اسی میں یہ طے ہوتا ہے کہ وہ استاد کتنے طلبہ کو سپروائز کر سکتا ہے۔ اس حد سے تجاوز کرنا صریحاً غیر قانونی ہےمگر اوکاڑا یونیورسٹی میں صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ انگلش ڈیپارٹمنٹ میں صرف ایک پی ایچ ڈی ٹیچر موجود ہے جبکہ 123 طلبہ کو ایم فل/پی ایچ ڈی میں انرول کر لیا گیا ہے۔ بائیو ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں 42 طلبہ کو رجسٹر کیا گیا جبکہ بائیو ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں منظور شدہ پی ایچ ڈی سپروائزر صرف ایک ہے، اس کے باوجود 42 طلبہ انرول کر دیئے گئے۔ اسی طرح اسلامک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں تین پی ایچ ڈی ریگولر پروفیسر جبکہ 140 طلبا وطالبات داخل کئے گئے ہیں۔ زوالوجی ڈیپارٹمنٹ میں 145 سٹوڈنٹس ہیں ۔یہ اعداد و شمار خود چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ یہاں تعلیم نہیں بلکہ ایک ڈگریوں کی فیکٹری چل رہی ہے جہاں قوانین، معیار اور طلبہ کے مستقبل کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ سب کچھ وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین میو کی مکمل نااہلی، تعلیمی جعلسازی اور غفلت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ ایک طرف ہراسمنٹ جیسے حساس معاملے کو سنجیدگی سے نمٹنے میں ناکامی اور دوسری طرف ہائر ایجوکیشن کے بنیادی قوانین کی دھجیاں اڑانااس بات کا ثبوت ہے کہ یونیورسٹی کا سربراہ اپنے منصب کی ذمہ داریوں سے نابلد یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ یہ سوال اب شدت اختیار کر چکا ہے کہ کیا ہائر ایجوکیشن کمیشن، ایچ ای ڈی پنجاب اور پی ایچ ای سی کے اعلیٰ حکام اس کھلی خلاف ورزی پر خاموش رہیں گے؟ یا پھر اوکاڑہ یونیورسٹی میں تعلیمی سرقہ کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت اور مثال قائم کرنے والا ایکشن لیا جائے گا؟ فی الحال اوکاڑا یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کے نام پر ہونے والی بدترین لوٹ مار، بدانتظامی اور قانون شکنی کی زندہ مثال بن چکی ہے اور اس کا سب سے بڑا ذمہ دار وہ وائس چانسلر ہے جو نہ طلبہ کے مستقبل کا محافظ ثابت ہوا اور نہ ہی اساتذہ کے وقار کا۔







