ملتان (سٹاف رپورٹر ) یونیورسٹیوں کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میں غیر قانونی اضافی چارجز، اون پے سکیل اور آؤٹ آف کیڈر تعیناتیاں ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئےوائس چانسلر اور سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو فوری عملدرآمد کی ہدایت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے سکھر بینچ نے شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میں انتظامی عہدوں پر غیر قانونی طور پر دیئے گئے اضافی چارجز، او پی ایس (OPS)، ایکٹنگ اور آؤٹ آف کیڈر تعیناتیوں کے خلاف دائر آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کو سخت احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ عدالت نے واضح قرار دیا ہے کہ انتظامی عہدوں پر صرف بھرتی قوانین کے مطابق اہل اور کوالیفائیڈ انتظامی کیڈر افسران ہی تعینات ہو سکتے ہیں، فیکلٹی ممبران کو اضافی یا او پی ایس بنیادوں پر انتظامی عہدے دینا قانون کے منافی ہے۔ یہ فیصلہ آئینی درخواست نمبر D-1569/2023 میں سنایا گیا جو سید محمد منیر شاہ (نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر، بی پی ایس-18) اور محمد یونس (سینئر ڈیٹا پروسیسنگ آفیسر، بی پی ایس-17) کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزاران کا مؤقف تھا کہ یونیورسٹی میں درجنوں اساتذہ اور غیر متعلقہ ملازمین کو غیر قانونی طور پر انتظامی عہدوں کا اضافی چارج دے کر میرٹ، قوانین اور ایچ ای سی پالیسی کو پامال کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس بات کی پابند ہے کہ تمام انتظامی تقرریاں ریکروٹمنٹ رولز کے مطابق کرے۔ ٹرانسفر کے ذریعے تقرری صرف اسی صورت ممکن ہے جب متعلقہ افسر ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی یا پروونشل سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش ہو اور اہلیت، قابلیت اور دیگر شرائط پر پورا اترے۔ یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ پر لازم تھا کہ وہ اضافی چارج رکھنے والے افراد کی اہلیت کا جائزہ لیتا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلوں 2013 SCMR 1752 اور 2015 SCMR 456 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بغیر قانونی تقاضے پورے کیے کسی کو انتظامی عہدہ دینا غیر آئینی ہے۔ عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ ایچ ای سی پالیسی کے مطابق پی ایچ ڈی فیکلٹی ممبران صرف تدریس اور تحقیق کے فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ انہیں انتظامی عہدوں پر اضافی یا او پی ایس چارج دینا قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سیکرٹری بورڈز اینڈ یونیورسٹیز حکومت سندھ نے 15 ستمبر 2021 کو او پی ایس، ایکٹنگ اور اضافی چارجز ختم کرنے کا تحریری حکم دیا تھا جسے یونیورسٹی انتظامیہ نے نظر انداز کیا۔ عدالت نے وائس چانسلر کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ وہ کسی بھی ملازم کو انتظامی عہدہ دینے کا اختیار رکھتے ہیں اور کہا کہ وائس چانسلر کے اختیارات آئین، قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلوں سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔ عدالت کے مطابق یونیورسٹی کا یہ طرزِ عمل بادی النظر میں غیر قانونی، غلط فہمی پر مبنی اور ناقابلِ قبول ہے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے 2023 SCMR 686 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ او پی ایس یا ایکٹنگ چارج کو طویل مدت تک جاری رکھنا سول سروس کے ڈھانچے کو کمزور اور تباہ کر دیتا ہے۔ عدالت نے اس دلیل کو بھی رد کر دیا کہ یہ محض معمولی بے ضابطگیاں تھیںاور کہا کہ جب بھرتی قوانین موجود ہوں تو او پی ایس پر تعیناتیاں سراسر غیر قانونی ہوتی ہیںجیسا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں 2014 SCMR 1189 اور 2018 SCMR 1411 میں بھی واضح کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ تمام اساتذہ اور ملازمین جو اضافی، او پی ایس یا آؤٹ آف کیڈر انتظامی عہدوں پر فائز ہیں، فوری طور پر اپنے اصل کیڈر اور عہدوں پر واپس جائیں۔ یونیورسٹی ایکٹ اور ایچ ای سی قوانین کے تحت اس قسم کی تعیناتیاں ناقابلِ قبول ہیں۔ یونیورسٹی سنڈیکیٹ بھی ایسی غیر قانونی تعیناتیوں کی منظوری دینے کا اختیار نہیں رکھتا، جیسا کہ اس عدالت نے پہلے ہی C.P No. D-1459/2023 میں قرار دیا ہے۔ عدالت نے وائس چانسلر شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور اور سیکرٹری بورڈز اینڈ یونیورسٹیز حکومت سندھ کو ہدایت کی کہ تمام غیر قانونی ٹرانسفر، او پی ایس اور اضافی چارج تعیناتیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔ انتظامی عہدوں پر تقرریاں صرف انتظامی کیڈر افسران میں سے اوپن اور شفاف مسابقتی عمل کے ذریعے کی جائیں۔ کسی بھی قسم کا سٹاپ گیپ یا عارضی بندوبست نہ کیا جائے۔ درخواست گزاران کی شکایات کو 30 دن کے اندر قانون کے مطابق سن کر فیصلہ کیا جائے۔ چنانچہ عدالت نے یہ آئینی درخواست منظور کر لی۔







