ملتان (کرائم سیل) ڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر عباس شیرازی کی فیملی کے زیر استعمال ویگو ڈالے کی ٹکر سے زخمی ہونے والی مقامی سکول کی طالبہ اور رکشہ ڈرائیور کی مزاج پرسی کے لیے گزشتہ دوپہر مری سے ملتان آ کر آغا ظہیر عباس شیرازی زخمی ہونے والی طالبہ حوریہ فاطمہ سے ملنے اس کے والد شعیب منظور کے گھر پہنچ گئے اور بعد ازاں انہوں نے زخمی ہونے والے رکشہ ڈرائیور محمد اظہر سے بھی ملاقات کی اور دونوں کے علاج کا مکمل خرچہ اٹھانے کی پیشکش کرکے اپنے ڈرائیور کی لاپروائی پر معذرت بھی کی۔ اس موقع پر شعیب منظور نے کسی بھی قسم کی امداد لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ چل کر میرے پاس آ گئے، میرا نقصان پورا ہو گیا جس پر آغا ظہیر عباس شیرازی نے کہا کہ بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں ۔ مجھے یہ جان کر شدید تکلیف ہوئی تو میں فوری طور پر مری سے ملتان کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس موقع پر شعیب منظور نے کہا اللہ نے میری بیٹی کی زندگی بچا لی اور اسے کسی قسم کی شدید چوٹ سے بھی محفوظ رکھا اس لیے میں اس مقدمے پر مزید کارروائی نہیں کرنا چاہوں گا اور میں اس مقدمے کو ختم کرنے کے لیے تحریر بھجوا رہا ہوں جس پر آغا ظہیر عباس شیرازی نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ میرے کہے بغیر آپ نے کمال مہربانی کی۔ ڈپٹی کمشنرمری نے رکشہ ڈرائیور محمد اظہر کو بھی اس کا نقصان پورا کرنے کی پیشکش کی مگر شعیب منظور نے کہا کہ رکشہ ڈرائیور کا نقصان بھی وہ خود پورا کر لیں گے، اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔ اس طرح یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو گیا مگر آغا ظہیر عباس شیرازی نے لاپروائی اور کوتاہی برتنے پر اپنے ڈرائیور کی شدید سرزنش کی۔







