ملتان ( سٹاف رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان ایک بار پھر شدید قانونی اور انتظامی بحران کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جہاں آج بروز جمعہ اپنا پرو وائس چانسلر کا ٹینیور پورا کرنے والی غیر قانونی وائس چانسلر کے مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال، حکومتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور غیر قانونی اجلاسوں کے انعقاد کا معاملہ عدالت تک جا پہنچا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں دائر آئینی درخواست نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اقدامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے بھی واضح طور پر بعض فیصلوں کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق رِٹ پٹیشن نمبر 10880/2025 میں یونیورسٹی کے ایماندار آفیسر درخواست گزار محمد آصف علی سنگھیڑا نے مؤقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کا 44واں اجلاس 12 ستمبر 2025 کو اس وقت منعقد کیا گیا جب چانسلر یعنی گورنر پنجاب کی جانب سے پہلے ہی متعلقہ حکام کو ایسے کسی اجلاس کے انعقاد سے روک دیا گیا تھا۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ یونیورسٹی حکام نے چانسلر کے واضح احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے اجلاس منعقد کیا اور اس کے منٹس جاری کیےجو قانون اور قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے چانسلر کی جانب سے 27 نومبر 2025 کو جاری کیا گیا وہ نوٹیفکیشن بھی پیش کیا جس کے ذریعے سنڈیکیٹ کے 3 اپریل 2025 کو ہونے والے 43ویں اجلاس کی کارروائی کو بھی کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ اس پیش رفت نے پورے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے اہم ترین فیصلے ہی قانونی حیثیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عدالت میں یونیورسٹی کے وکیل نے خود اعتراف کیا کہ سنڈیکیٹ کے 43ویں اور 44ویں اجلاس کے منٹس دراصل منسوخ ہو چکے ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے باضابطہ دستاویز پیش کرنے کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 17 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی۔ دوسری جانب پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی 11 مارچ 2026 کو یونیورسٹی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے ایک باضابطہ خط میں واضح کر دیا ہے کہ پرو وائس چانسلر کو کسی بھی صورت سنڈیکیٹ کے اجلاس بلانے یا پالیسی نوعیت کے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ حکومتی مراسلے میں خاص طور پر کہا گیا کہ یونیورسٹی میں تعیناتیوں اور سلیکشن بورڈ کے ارکان کی نامزدگی جیسے اہم معاملات طویل المدتی پالیسی فیصلے ہیں جنہیں کسی عبوری انتظامیہ کے ذریعے منظور نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو صرف روزمرہ امور چلانے کی محدود اجازت دی گئی تھی جبکہ سنڈیکیٹ کے اجلاس بلانا، مالی یا پالیسی فیصلے کرنا اور سلیکشن بورڈ کے ارکان نامزد کرنا ان کے دائرہ اختیار میں شامل ہی نہیں۔ تعلیمی حلقوں میں اس صورتحال کو یونیورسٹی کی تاریخ کا ایک بڑا انتظامی بحران قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عدالت نے ان اجلاسوں کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دے دیا تو یونیورسٹی کے درجنوں فیصلے، تقرریاں اور پالیسی اقدامات بھی کالعدم ہو سکتے ہیں جس سے ادارے میں ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق اگر حکومتی احکامات اور چانسلر کی ہدایات کے باوجود سنڈیکیٹ اجلاس بلائے گئے تو یہ نہ صرف انتظامی بدانتظامی بلکہ اختیارات کے ممکنہ ناجائز استعمال کا معاملہ بھی بن سکتا ہےجس کی مکمل تحقیقات ناگزیر ہو گئی ہیں۔ ادھر یونیورسٹی ٹیچرز اور ملازمین کے حلقوں میں بھی شدید بے چینی پائی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پورے معاملے کی شفاف انکوائری کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ ایک اہم سرکاری تعلیمی ادارے کی ساکھ مزید متاثر نہ ہو۔







