ملتان ( سٹاف رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان ایک بار پھر شدید انتظامی بحران اور متنازع فیصلوں کی زد میں آ گئی ہے، جہاں عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے لانگ ٹرم فیصلوں اور قائم کردہ کمیٹیوں پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ ملازمین کو آئندہ مزید قانونی پیچیدگیوں میں دھکیلنے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ ملازمین کی پروموشنز کا معاملہ جو واضح طور پر ریگولر وائس چانسلر کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، عارضی انتظامیہ کے ذریعے نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ باوثوق ذرائع کے مطابق ویمن یونیورسٹی ملتان میں ریگولر وائس چانسلر کی تعیناتی اور اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن نہایت قریب ہے، اس کے باوجود عجلت میں “Promotion of Dossiers Preparation Committee” کا اجلاس آج 22 جنوری 2026 کو طلب کر لیا گیا ہے جس کا نوٹیفکیشن خود ڈپٹی رجسٹرار محمد شفیق نے جاری کیا۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے پہلے مرحلے میں یونیورسٹی ملازمین کے ایڈوانسڈ انکریمنٹس کاٹ لیے، تاہم جب ہائیکورٹ سے ان انکریمنٹس پر سٹے آرڈر آ گیا اور توہین عدالت کے بعد وائس چانسلر آفس کے ذرائع کے مطابق اگلے ماہ تنخواہوں میں کٹوتی بھی نہیں کی جائے گی۔ تنخواہوں کی مزید کٹوتی کی صورت میں وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو سخت ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ چنانچہ صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا کہ اب ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے مبینہ قریبی ساتھی اور فرنٹ مین محمد شفیق کے مشورے سے پروموشنز کے نام پر ملازمین سے رقوم اکٹھی کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جو سراسر غیر اخلاقی اور قابلِ مذمت عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ روزنامہ قوم کی قانونی ماہرین کی ٹیم کے مطابق عارضی وائس چانسلر کے دور میں ہونے والی یہ پروموشنز مستقبل میں کالعدم بھی قرار دی جا سکتی ہیں جس سے نہ صرف ملازمین کا کیریئر خطرے میں پڑے گا بلکہ وہ رقوم بھی ضائع ہو جائیں گی جو مبینہ طور پر ان پروموشنز کے بدلے وصول کی جا رہی ہیں۔ حیران کن طور پر غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے جو پروموشن کمیٹی بنائی گئی اس میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر گریڈ 19 کو کنوینرجبکہ رجسٹرار اور خزانچی گریڈ 20 کی پوزیشنز کو ممبر بنایا گیا جو کہ اس سارے معاملے کو شک میں ڈال رہا ہے۔ اسی طرح باقی 2 ممبران کو سروس سٹیچوز اور سروس سٹرکچر کا ایک دن کا بھی تجربہ نہیں۔ اور مزید سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ جب گورنر پنجاب / چانسلر پہلے ہی ویمن یونیورسٹی ملتان میں تقرریوں اور انتظامی معاملات پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر چکے ہیں اور اس کمیٹی کا فیصلہ تاحال سامنے نہیں آ سکا تو پھر نئی پروموشنز کی یہ جلد بازی کس ایجنڈے کے تحت کی جا رہی ہے؟ یاد رہے کہ حکومت پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 5 مارچ 2024 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت گورنر/چانسلر نے مفادات کے ٹکراؤ کے پیش نظر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے 2013 سے 2021 کے دوران یونیورسٹی آف دی پنجاب کے سٹیچوز کے تحت ہونے والی تمام بھرتیوں کا جائزہ لے کر 60 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ افسوسناک طور پر آج تک اس کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آ سکی جبکہ دوسری جانب عارضی انتظامیہ لانگ ٹرم نوعیت کے فیصلے کرنے میں مصروف ہے۔ مزید برآں ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی وہ رسیدیں بھی پہلے سے موجود ہیں جن میں وہ سیرت کانفرنس کے فنڈز مبینہ طور پر اپنے ذاتی حبیب بینک بورڈ برانچ اکاؤنٹ اور ذاتی جاز کیش اکاؤنٹ میں وصول کر چکی ہیں جس پر اعلیٰ حکام کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ تعلیمی و انتظامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر گورنر پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ فورمز نے مداخلت نہ کی تو ویمن یونیورسٹی ملتان نہ صرف ایک بڑے قانونی و مالی سکینڈل کی طرف بڑھ سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست ملازمین کے مستقبل اور ادارے کے وقار پر بھی پڑیں گے۔ عارضی وائس چانسلر کے لانگ ٹرم فیصلے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان کا فوری اور شفاف احتساب کیا جائے تاکہ ادارہ مزید تباہی سے بچ سکے۔







