پنجاب پولیس میں اصلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈلائن، بدتمیزی کلچرل ختم، ہر شہری کو سر کہا جائے: مریم نواز-پنجاب پولیس میں اصلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈلائن، بدتمیزی کلچرل ختم، ہر شہری کو سر کہا جائے: مریم نواز-ویمن یونیورسٹی ملتان: عارضی وی سی کا جاتے جاتے بیرون ملک جانیکا بہانہ، رقم مینج کرنیکا ٹاسک-ویمن یونیورسٹی ملتان: عارضی وی سی کا جاتے جاتے بیرون ملک جانیکا بہانہ، رقم مینج کرنیکا ٹاسک-عمران خان کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کسی کو کرنے دوں گا، وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی-عمران خان کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کسی کو کرنے دوں گا، وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی-سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، عالمی منڈی میں تیزی، چاندی مزید سستی-سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، عالمی منڈی میں تیزی، چاندی مزید سستی-راجن پور کا کچے کا علاقہ ڈاکوؤں سے 100 فیصد کلیئر کرالیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز-راجن پور کا کچے کا علاقہ ڈاکوؤں سے 100 فیصد کلیئر کرالیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز

تازہ ترین

ویمن یونیورسٹی ملتان: عارضی وی سی کا جاتے جاتے بیرون ملک جانیکا بہانہ، رقم مینج کرنیکا ٹاسک

ملتان (سٹاف رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان میں ایک نیا انتظامی و مالیاتی تنازع سامنے آگیا ہے جس نے تعلیمی و سرکاری حلقوں میںہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے وائس چانسلرز کے لیے امریکا، کینیڈا، انگلینڈ اور دیگر یورپی ممالک میں لیڈرشپ ٹریننگ پروگرام کی پیشکش کی گئی جس کے لیے قواعد کے مطابق صرف باقاعدہ (ریگولر) وائس چانسلر ہی اہل تصور کیا جاتا ہے۔تاہم اطلاعات ہیں کہ جامعہ کی پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ جو اس وقت عارضی طور پر وائس چانسلر کا چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں اور جن کی بطور پرو وائس چانسلر مدت 17 مارچ کو ختم ہونے والی ہے، نے مبینہ طور پر اس غیر ملکی لیڈرشپ پروگرام میں شرکت کے لیے اندرونی دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جامعہ کی خزانچی طاہرہ یونس نے ابتدا میں مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ ہیڈ میں کوئی رقم دستیاب نہیں، جس پر مبینہ طور پر ہدایت دی گئی کہ رقم’’مینج‘‘ کی جائے۔ بعد ازاں سٹیشنری ہیڈ سے تقریباً 10 لاکھ روپے کی رقم اسی مد میں منتقل کرنے کا حکم جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق اگر کسی اقدام میں ذاتی مفاد کا عنصر شامل ہو تو ایسی ری اپروپریشن متعلقہ مجاز فورم یا سنڈیکیٹ سے منظوری کے بغیر نہیں کی جا سکتی، بصورت دیگر اسے قواعد کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اگر مقررہ وقت تک ریگولر وائس چانسلر کی تعیناتی عمل میں نہ آسکی تو امکان ہے کہ کسی قریبی جامعہ کے وائس چانسلر کو اضافی چارج دیا جائے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا مدتِ ملازمت کے اختتام سے قبل غیر ملکی تربیت کے لیے مالی وسائل کی منتقلی ادارہ جاتی مفاد میں ہے یا نہیں؟ اس معاملے میں ایک اور پہلو بھی زیر بحث ہے کہ مذکورہ لیڈرشپ ٹریننگ انگریزی زبان میں منعقد ہونی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی تربیتی پروگرام میں مؤثر شرکت کے لیے زبان پر عبور ناگزیر ہوتا ہے، لہٰذا اہلیت اور شفافیت کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ جبکہ وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ انگریزی زبان سے مکمل طور پر نا بلد ہیں۔ نہ بول سکتی ہیں۔ نہ لکھ سکتی ہیں اور نہ ہی سمجھ سکتی ہیں۔ ادارے کے اندرونی ذرائع مزید یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بڑے مالیاتی فیصلوں، کانفرنس فنڈز اور دیگر رقوم کی ادائیگیوں سے متعلق بھی ماضی میں شواہد سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم ان شواہد کی باضابطہ تردید تاحال سامنے نہیں آسکی۔ دوسری جانب انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، مگر خبر فائل ہونے تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ تعلیمی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کروا کر یہ واضح کیا جائے کہ آیا قواعد و ضوابط کی پاسداری کی گئی یا نہیں، تاکہ جامعہ کی ساکھ اور مالی نظم و ضبط پر اٹھنے والے سوالات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں