ملتان (سٹاف رپورٹر)خواتین یونیورسٹی ملتان میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعینات وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے من پسند افراد کو اہم انتظامی عہدوں پر بٹھانے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہےجس پر یونیورسٹی ملازمین اور فیکلٹی میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے قریبی اور مبینہ طور پر’’کماؤ‘‘ افسر محمد شفیق، جو اس وقت ایڈمن آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کو قواعد و ضوابط کے برخلاف رجسٹرار آفس میں ڈپٹی رجسٹرار اسٹیبلشمنٹ کے انتہائی اہم عہدے پر تعینات کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈمن آفیسر کا رجسٹرار آفس کے انتظامی اور اسٹیبلشمنٹ امور سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس کے باوجود اس حساس عہدے پر تعیناتی کو کھلی اقربا پروری اور بدنیتی پر مبنی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ محمد شفیق اس وقت یونیورسٹی ٹرانسپورٹ کے فیول کے انچارج بھی ہیں، جہاں مبینہ طور پر لاکھوں روپے ماہانہ کی بے ضابطگیاں کی جا رہی ہیں۔ ملازمین کے مطابق یونیورسٹی میں موجود چار ایڈمن افسران میں صرف محمد شفیق کا رویہ ماضی میں بھی ملازمین کے لیے سخت اور متنازع رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ اکثر ملازمین کو یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ انہیں الیکٹریکل مینٹیننس کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور ماضی میں’’ کے الیکٹرک‘‘ میں ملازمت کے دوران ہزاروں افراد کو نوکری سے نکال چکے ہیں، جسے ملازمین دھمکی آمیز رویہ قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ایڈمن آفیسر محمد شفیق کے کہنے پر یونیورسٹی ملازمین کو ملازمت کے آغاز پر دیئے گئے ایڈوانس انکریمنٹس کی کٹوتیاں تقریباً دس سال بعد اچانک شروع کروا دیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ شدید معاشی دباؤ کا باعث بھی بن رہا ہے۔ یونیورسٹی ملازمین کے مطابق کٹوتیوں کی زد میں ایک ایسی خاتون ٹیچر بھی آئی ہیں جن کا بیٹا کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے اور ان کے علاج پر ماہانہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں کٹوتیوں کا فیصلہ ملازمین کے نزدیک ظلم اور بے حسی کی بدترین مثال ہے۔ ذرائع کے مطابق ان اقدامات کے باعث یونیورسٹی کا مجموعی ماحول شدید تناؤ کا شکار ہو چکا ہے اور ملازمین و فیکلٹی ممبران خود کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور ایڈمن آفیسر محمد شفیق کے طرزِ عمل نے انہیں بددعائیں دینے پر مجبور کر دیا ہے۔یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تجربہ ویسے شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح دھوکہ دیتے ہوئے انہوں نے میٹرک کی سند پر 32 سال بعد گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو دھوکہ دہی کی ماہر کاریگر جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے ایڈمن آفیسر محمد شفیق کے ساتھ مل کر گرینڈ گالا کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ پھر یونیورسٹی میں ہونے والی تمام تر کانفرنسز، سیلاب فنڈز کے بھی تمام تر پیسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منگوائے مگر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور کی مبینہ سر پرستی سے غیر قانونی، غیر اخلاقی، ناجائز، جعلی اور کرپٹ ترین وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تاحال ملازمین کے لیے درد سر بن چکی ہیں۔مبینہ طور پر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف ہونے والی QUO WARRANTO کوئی ایکشن نہ لے کر توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے جب مؤقف کے لیے کرپٹ ترین وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور ان کے کماؤ پوت محمد شفیق سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی اور پوچھا گیا کہ آپ ایک ایڈمن آفیسر ہیں، آپ کو رجسٹرار آفس کا کوئی تجربہ نہیں۔ تو ٹرانسفر کی وجوہات کیا ہیں؟ مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ موقف کے لیے کال کی گئی تو انہوں نے کال ہی وصول نہ کی۔







