ملتان (سٹاف رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان ایک بار پھر شدید تنازعات اور مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی زد میں آ گئی ہے جہاں یونیورسٹی کی عارضی وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ، جن کا ٹینیور محض 3 دن بعد مکمل ہونے جا رہا ہے، پر اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، غیر قانونی فیصلوں اور مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنی مدت ختم ہونے سے 3 روز قبل ایسے متنازع فیصلوں کی بھرمار کر دی ہے جنہوں نے پورے ادارے میں شدید بے چینی اور سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ وائس چانسلر آفس کے ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر ان تمام غیر قانونی کاموں، کرپشن اور غیر قانونی پروموشنز کے فوری بعد 3 دن بعد غیر قانونی پرو وائس چانسلر کا ٹینیور پورا کرنے والی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے قریبی سیکشن آفیسرز اور آفیسرز کے لیے گفٹ کے کر لاہور روانہ ہو گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 5 مارچ 2026 کو ایک شہری کی جانب سے Higher Education Department Punjab، گورنر پنجاب اور صوبائی وزیر تعلیم کو باضابطہ تحریری شکایت ارسال کی گئی جس میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ عارضی وائس چانسلر ہونے کی حیثیت سے صرف روزمرہ کے انتظامی امور چلانے کی مجاز ہیں اور انہیں کسی بھی قسم کی بھرتیوں، ترقیوں یا بڑے مالی فیصلوں کا اختیار حاصل نہیں۔ شکایت میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی میں کسی بھی بڑے انتظامی اقدام سے قبل متعلقہ حکام فوری مداخلت کریں تاکہ کسی ممکنہ بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔ تاہم ذرائع کے مطابق اس شکایت کے باوجود ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے 9 مارچ کو پرانی تاریخ 5 مارچ ظاہر کرتے ہوئے تقریباً 21 ملازمین کو غیر معمولی طور پر ترقی دے دی۔ ان ترقیوں میں مبینہ طور پر جونیئر کلرک اسکیل 11 کے ملازمین کو براہ راست سینیئر کلرک گریڈ 14 میں ترقی دی گئی، جسے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے نہ صرف ادارے کے سروس اسٹرکچر کو متاثر کیا بلکہ اس کے طریقہ کار پر بھی شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان ترقیوں کے پس منظر میں مبینہ مالی لین دین بھی شامل ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنی متوقع ریٹائرمنٹ اور ممکنہ انکوائریوں کے خدشات کے پیش نظر ان ملازمین سے مبینہ طور پر بھاری رقوم وصول کر کے ترقیوں کی منظوری دی، جبکہ جو ملازمین مبینہ طور پر اخراجات ادا نہ کر سکے ان کی ترقی مبینہ طور پر ان کی سالانہ خفیہ رپورٹس (ACR) خراب کر کے روک دی گئی۔ مزید یہ کہ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق 19 فروری کو ہونے والی ایک میٹنگ میں مبینہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ صرف انہی ملازمین کو ترقی دی جائے گی جو انتظامیہ کی “مٹھی گرم” کریں گے۔ اس سارے عمل میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے مبینہ فرنٹ مین محمد شفیق کا کردار بھی زیر بحث آ رہا ہے، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر ملازمین سے رابطے کر کے پورا عمل ترتیب دیا اور انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق جب انتظامیہ کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ بعض ملازمین کی ترقی اے سی آر کی بنیاد پر روکی جا رہی ہے اور اس پر اعتراض اٹھ سکتا ہے تو مبینہ طور پر ان ملازمین کو بلوا کر نوٹیفکیشن جاری ہونے سے دو روز قبل ایک سادہ کاغذ پر دستخط کروا لیے گئے۔ ملازمین کے مطابق انہیں اس کاغذ کے متن کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں دی گئیں اور بعد میں جب انہیں علم ہوا کہ ان کی ترقی روک دی گئی ہے تو ان میں شدید بے چینی پھیل گئی۔ اس معاملے پر جب یونیورسٹی کے ریزیڈنٹ آڈیٹر محمد علی مرتضیٰ سے مؤقف لیا گیا تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام اقدامات قانون کے مطابق کیے گئے ہیں اور اس میں کسی قسم کے آڈٹ اعتراض کی ضرورت نہیں۔ تاہم مالیاتی اور انتظامی امور کے ماہرین اس مؤقف کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے تحت دیگر جامعات میں تعینات بعض ریزیڈنٹ آڈیٹرز کا کہنا ہے کہ عارضی وائس چانسلر کو صرف روزمرہ کے انتظامی امور چلانے کا اختیار ہوتا ہے اور وہ کسی بھی بڑے مالی یا انتظامی فیصلے کی مجاز نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق ایکٹ اور اسٹیچوٹس کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً جاری ہونے والی گائیڈ لائنز بھی یونیورسٹی انتظامیہ کے لیے لازم ہوتی ہیں، لہٰذا یہ کہنا کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ یا متعلقہ اداروں کی ہدایات کی کوئی حیثیت نہیں، ایک انتہائی غیر سنجیدہ،بچگانہ اور بےوقوفانہ مؤقف ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ ماضی میں بھی مختلف تنازعات کا حصہ رہ چکی ہیں۔ ان پر گرینڈ گالا، سیرت کانفرنس اور سیلاب فنڈ کے معاملات میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگ چکے ہیں جبکہ ان کی تعیناتی کے حوالے سے تین مختلف تاریخ پیدائش اور مبینہ جعلی تجربے کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے کے دعوے بھی ماضی میں زیر بحث آ چکے ہیں۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو یونیورسٹی میں کئی سنسنی خیز حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے بعد اب نظریں Higher Education Department Punjab پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ تعلیمی و سماجی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا محکمہ ہائر ایجوکیشن اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آزادانہ انکوائری کرائے گا؟ کیا عارضی وائس چانسلر کی جانب سے کی گئی ان متنازع ترقیوں کو معطل کیا جائے گا؟ کیا مبینہ مالی لین دین اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات ہوں گی؟ کیا ماضی میں گرینڈ گالا، سیرت کانفرنس اور سیلاب فنڈ کے معاملات کو بھی دوبارہ کھولا جائے گا؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایک عارضی انتظامیہ اپنی مدت کے آخری دنوں میں اس نوعیت کے بڑے فیصلے کر سکتی ہے تو صوبے کی جامعات کے نظامِ احتساب کی نگرانی آخر کس کے ہاتھ میں ہے؟ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو یہ نہ صرف Women University Multan کی ساکھ بلکہ پورے صوبے کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے وقار پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن جائے گا۔







