ملتان (سٹاف رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان میں جدید 11 کے وی پینل اور 500 کلو واٹ سولر سسٹم کی تنصیب کو بظاہر “بڑی کامیابی” اور “لاکھوں روپے کی بچت” قرار دے کر تشہیر کی جا رہی ہے، مگر پردے کے پیچھے سامنے آنے والے حقائق اس منصوبے کو بدعنوانی، اقربا پروری اور قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی واضح مثال بنا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس پورے منصوبے میں پروکیورمنٹ رولز اور پیپرا قوانین کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا، جس نے یونیورسٹی انتظامیہ کی نیت اور طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انکوائری کے قابل سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ منصوبے کے لیے ریفربشڈ (Refurbished) سولر پینلز خریدے گئے، حالانکہ سرکاری قواعد کے تحت ایسے استعمال شدہ یا مرمت شدہ پینلز کی خریداری کی اجازت ہی موجود نہیں۔ اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے نہ صرف اس مشکوک خریداری کی منظوری دی بلکہ کسی قسم کی تکنیکی یا قانونی جانچ پڑتال کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی۔ مزید یہ کہ ایک ملین روپے تک کی خریداری تو براہِ راست (Direct Contracting) کے ذریعے کی جا سکتی ہے، مگر یہاں ایک ملین روپے سے کہیں زیادہ مالیت کی خریداری کی گئی، جس کے لیے اوپن ٹینڈر اور پیپرا رولز کے تحت شفاف طریقہ کار لازم تھا۔ اس کے باوجود نہ تو اوپن ٹینڈر جاری کیا گیا اور نہ ہی مسابقتی بولی کا کوئی ریکارڈ سامنے آیا، بلکہ کروڑوں روپے کے فیصلے بند کمروں میں طے کر لیے گئے، جو واضح طور پر مس پروکیورمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ حیران کن امر یہ بھی ہے کہ اس منصوبے میں مبینہ طور پر میپکو سے خریداری ظاہر کی جا رہی ہے، حالانکہ میپکو کا کام سرے سے سولر پینلز کی مینوفیکچرنگ یا فروخت ہے ہی نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب میپکو اس شعبے سے متعلق ہی نہیں تو پھر اس ادارے سے سولر پینلز کس حیثیت میں اور کن قواعد کے تحت خریدے گئے؟ یہ پہلو بذاتِ خود ایک سنگین مالی اور انتظامی بے ضابطگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز نے اسی نوعیت اور تقریباً اسی مالیت کا سولر منصوبہ مکمل طور پر پیپرا رولز کے تحت اوپن ٹینڈر کے ذریعے حاصل کیا، جہاں شفافیت اور مسابقتی عمل کو یقینی بنایا گیا۔ مزید یہ کہ مذکورہ یونیورسٹی نے تقریباً 60 لاکھ روپے مالیت کا زیرو میٹر (Zero Meter) نیا پینل حاصل کیا، جبکہ ویمن یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی سربراہی میں 45 لاکھ روپے کا ریپئیر شدہ اور استعمال شدہ پینل خریدا گیا، جو قواعد کی صریح اور کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل یونیورسٹی میں تقریباً پانچ کروڑ روپے کے کمپیوٹرز کی متنازع خریداری میں بھی اسی طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا گیا، جہاں غیر قانونی اور غیر اخلاقی فیصلوں کا سارا ملبہ بے قصور اسسٹنٹ خزانچی ریحان قادر پر ڈال دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ عارضی وائس چانسلر کی پوزیشن پر رہتے ہوئے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یہی طرزِ فکر اب سولر منصوبے میں بھی دہرایا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی منصوبے کو بنیاد بنا کر یونیورسٹی کے ترجمان کے ذریعے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ماہانہ بجلی کا بل 15 سے 25 لاکھ روپے سے کم ہو کر 3 سے 7 لاکھ روپے تک آ جائے گا اور یونیورسٹی نے 45 لاکھ روپے بھی ادا کیے مگر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ یہ تمام فیصلے کن قواعد، کن فائلوں اور کن مجاز فورمز کی منظوری سے کیے گئے۔ منصوبے کا افتتاح خود وائس چانسلر و عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کیا اور اسے “گرین انرجی” اور “مالی بچت” کا خوشنما نام دیا، تاہم ذمہ دار تعلیمی اور انتظامی حلقوں کے مطابق اصل سوال بجلی کے بل میں کمی کا نہیں بلکہ قانون شکنی، مشکوک خریداری اور قومی وسائل کے ممکنہ غلط استعمال کا ہے۔ ذرائع واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اس پورے اسکینڈل کی براہِ راست ذمہ داری وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور ایڈمن آفیسر شفیق احمد پر عائد ہوتی ہے، جن کی سرپرستی کے بغیر ایسا کوئی اقدام ممکن ہی نہیں تھا۔ اگرچہ اس منصوبے میں مختلف افسران اور اہلکاروں کی مبینہ “کارکردگی” کو سراہا جا رہا ہے، مگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بیٹھے ذمہ دار حلقے یہ بنیادی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ریفربشڈ سامان کی خریداری، ٹینڈر کے بغیر کروڑوں روپے کے فیصلے اور پیپرا رولز کی دھجیاں اڑانا واقعی قابلِ ستائش کارکردگی کہلاتا ہے؟ چنانچہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ویمن یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی اور ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے اس سولر منصوبے کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ یہ طے ہو سکے کہ “گرین انرجی” اور “بجلی کے بل میں بچت” کے دعوؤں کے پیچھے کتنی بڑی مالی اور انتظامی بدعنوانی چھپی ہوئی ہے۔ بصورتِ دیگر یہ منصوبہ ایک خطرناک مثال بن جائے گا کہ کس طرح “سبز توانائی” کے نام پر تعلیمی اداروں اور قومی وسائل کو لوٹا جاتا ہے۔ اس بارے میں موقف کے لیے یونیورسٹی ملتان کے ریزیڈنٹ اڈیٹر علی مرتضی سے جب بات کی گئی اور پوچھا گیا کہ کیا اس منصوبے کی پیمنٹ کی جا چکی ہے اور اگر پیمنٹ کی گئی ہے تو کیا اس پروجیکٹ پر کوئی اڈٹ پیرا بھی بنایا گیا ہے اور اگر نہیں بنایا گیا تو اپ نے بطور ریزیڈنٹ اڈیٹر کس قانون کے تحت 10 لاکھ سے زائد کی خریداری کی بغیر پیپرا کے اجازت دی۔ تو انہوں نے بھی روزنامہ قوم کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایڈمنسٹریٹو فیصلوں کی ذمہ داری ان پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ جو بل میں پاس کروں گا میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ اس بارے میں 3 ماہ کے لیے تعینات عارضی خزانچی طاہرہ یونس اور غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے کماؤ پوت محمد شفیق سے موقف کے لیے بات کی گئی اور پوچھا گیا کہ کس قانون کے تحت استعمال شدہ پینل ایک بجلی کے ڈسٹریبیوٹر سے بغیر ٹینڈر 45 لاکھ کا خریدا گیا جبکہ پیپرا رولز آپ کو 10 لاکھ سے زیادہ کی بغیر ٹینڈر اور وہ بھی استعمال شدہ آئٹم خریداری کے اجازت نہیں دیتے تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔







