ملتان ( سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعینات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں مالی و انتظامی امور کو قوانین کے برعکس چلانے کی کوششوں پر ایک کے بعد ایک ذمہ دار اور اہل اساتذہ نے ساتھ دینے سے انکار کر دیاجس کے بعد ایک انتہائی متنازع اور حیران کن فیصلہ سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق سب سے پہلے شعبہ فزکس کی ڈاکٹر مصباح مرزا نے مبینہ غیر قانونی معاملات میں شامل ہونے سے صاف انکار کیا۔ اس کے بعد شعبہ کیمسٹری کی ڈاکٹر سارہ مصدق نے بطور خزانچی ذمہ داری سنبھالنے سے انکار کر دیا۔ انہی وجوہات کی بنا پر شعبہ کیمسٹری ہی کی ڈاکٹر تنزیلہ نے بھی خزانچی کا عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی پھر غیر قانونی چارج ڈاکٹر عشرت ریاض کو سونپا گیا مگر روزنامہ قوم کی خبر پر واپس لیا گیا۔ بعد ازاں شعبہ سوشیالوجی کی ڈاکٹر مدیحہ اکرم اور شعبہ اکنامکس کی ڈاکٹر رائمہ نظر نے بھی اس اہم مالیاتی منصب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ بزنس اور اکنامکس کے شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی کم از کم سات مزید اساتذہ جن کے پاس متعلقہ اور ٹیکنیکل ڈگریاں موجود تھیں، انہوں نے بھی مبینہ غیر قانونی کارروائیوں کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ان مسلسل انکاروں کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلامیات سے تعلق رکھنے والی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے ہی ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت شعبہ عربی سے تعلق رکھنے والی ٹی ٹی ایس سکیل پر تعینات اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مکیہ کو خزانچی مقرر کر دیا۔ ڈاکٹر مکیہ کے قریبی ذرائع کے مطابق چونکہ ان کا تعلق عربی کے شعبہ سے ہے اور وہ ٹی ٹی ایس پر تعینات ہیں اس لیے انہیں خزانچی آفس اور مالیاتی امور کا کوئی عملی تجربہ حاصل نہیں۔ ان کو چارج دینا ٹی ٹی ایس کی وجہ سے غیر قانونی ہے۔ ڈاکٹر مکیہ نے ابتدا میں اس عہدے کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا تاہم ٹی ٹی ایس سکیل پر تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر مبینہ طور پر دباؤ ڈالا گیا اور دھمکی دی گئی کہ ’’تم ٹی ٹی ایس پر ہو، تمہیں نکالنے میں ایک لمحہ نہیں لگے گا‘‘ جس کے بعد مجبوری کے تحت انہیں یہ ذمہ داری قبول کرنا پڑی۔ عملی طور پر خزانچی آفس میں تمام مالی فیصلے، فائلوں کی منظوری اور کارروائیاں ڈاکٹر مکیہ کے بجائے خود وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور ان کے قریبی سمجھے جانے والے اہلکار محمد شفیق انجام دیں گےجبکہ ڈاکٹر مکیہ سے محض دستخط لیے جائیں گے۔روزنامہ قوم کے وائس چانسلر ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ برتھ ڈے کے سلسلے میں دوسرے شہر میں تھیں ۔انہوں نے ڈاکٹر مکیہ کا نوٹیفکیشن روک دیا کیونکہ ٹی ٹی ایس کا اعتراض آ گیا ہے جو کہ واقعی غیر قانونی ہے۔ڈاکٹر کلثوم پراچہ متعدد بار عارضی تعیناتی کے باوجود سینکڑوں بار ایمرجنسی پاورز کا استعمال کر چکی ہیںجس پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے کئی مرتبہ تحریری ہدایات اور خطوط ارسال کیے جا چکے ہیں۔ تاہم ان ہدایات کو مبینہ طور پر نظرانداز کیا گیا۔ اسی طرح ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور کمشنر ملتان کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹسز کو بھی کوئی اہمیت نہ دی گئی اور نہ ہی ان کا جواب دینا ضروری سمجھا گیا۔ حیران کن طور پر ٹی ٹی ایس پر تعینات ایک اسسٹنٹ پروفیسر جو یونیورسٹی کی ریگولر سروس کا حصہ نہیں ہوتیںانہیں خزانچی جیسے حساس اور آئینی عہدے پر تعینات کر دیا گیاجسے قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ روزنامہ قوم کی لیگل ٹیم کے مطابق یہ اقدام نہ صرف یونیورسٹی ایکٹ بلکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے قواعد کے بھی منافی ہے۔







