ویمن یونیورسٹی بہاولپور: ڈاکٹر صائمہ انجم کی تقرری اور ترقی میں سنگین بے ضابطگیاں

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں شعبہ کیمسٹری کی فیکلٹی ممبر اور عارضی رجسٹرار ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ انجم کی تقرری اور ترقی کے معاملات میں سنگین بے ضابطگیاں، قانونی خلاف ورزیاں اور کھلم کھلا امتیازی سلوک سامنے آئے ہیں، جنہوں نے ادارے کے میرٹ سسٹم اور شفافیت کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دستاویزات اور ذرائع کے مطابق ڈاکٹر صائمہ انجم نے 2013 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد بغیر کسی باقاعدہ اشتہار کے کنٹریکٹ بنیاد پر خواتین یونیورسٹی بہاولپور میں ملازمت حاصل کی جو یونیورسٹی کے سٹیچوز کے خلاف تھی۔ ابتدائی تقرری لیٹر نمبر 502/Estt مورخہ 05.08.2015 کے تحت جاری ہوا جس نے دیگر ملازمین کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی۔ ذرائع کے مطابق پہلے کی طرح دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی ملازمت کے بعد ڈاکٹر صائمہ انجم نے اپنی وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم سے کہہ کر رجسٹرار اور پروفیسر آف کیمسٹری کا اشتہار شائع کروایا۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے عارضی رجسٹرار کی کرسی پر بیٹھ کر خود ہی اپلائی کیا، خود ہی درخواست وصول کی اور اپنی درخواست کو منظور کروایا۔ اس کے بعد ڈاکٹر صائمہ انجم نے عارضی رجسٹرار کی ایک کرسی پر بیٹھ کر دو نئی تعیناتیوں کے لیے خود کو اہل بنایا اور اپنے من پسند افراد کی فہرستیں بطور ایکسپرٹس اور ڈوزیر ویلیویشن ایویلییٹرز منظور کروائیںجو کہ قانون اور میرٹ کے اصولوں کے ساتھ کھلم کھلا کھلواڑ کے مترادف ہے۔ اس عمل سے دیگر زیادہ اہل اور تجربہ کار خاتون ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے ساتھ واضح امتیازی سلوک اور زیادتی ہوئی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر صائمہ انجم کی اسسٹنٹ پروفیسر ریگولر کی تقرری کے وقت بھی ان کے انٹرویو میں ایم ایس سی سپروائزر ڈاکٹر مشکوف اختر شامل تھےجو نہ صرف غیر قانونی بلکہ غیر اخلاقی ہے اور اس سے مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے سنگین الزامات پیدا ہوئے ہیں۔ ملازمین اور تعلیمی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مذکورہ تقرری اور ترقی میرٹ کے بجائے خوشامد اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر کی گئی، جس سے یونیورسٹی کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ متاثرہ فریقین نے چانسلر پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ابتدائی تقرری، سلیکشن بورڈ کی تشکیل، مستقل تقرری اور 2023 کی ترقی کی غیر جانبدار عدالتی یا اعلیٰ سطحی انکوائری کرائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور میرٹ کا بول بالا ہو۔ اساتذہ اور ملازمین نے وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم سے بھی سخت ترین ایکشن لینے کی درخواست کی ہے تاکہ ادارے میں شفافیت قائم ہو اور دیگر اہل اساتذہ کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ متاثرہ ملازمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بے ضابطگیاں جاری رہیں تو وہ متعلقہ قانونی اور عدالتی فورمز سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ معاملہ نہ صرف خواتین یونیورسٹی بہاولپور میں انتظامی شفافیت کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں میرٹ اور انصاف کے اصولوں پر بھی سوالیہ نشان لگاتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں