ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں تقریباً 80 کے قریب اساتذہ و ملازمین کی سالانہ انکریمنٹس روکنے کے معاملے پر ایک کے بعد ایک چونکا دینے والے انکشافات سامنے آ رہے ہیں، جس سے ادارہ شدید انتظامی، مالی اور اخلاقی بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق انکریمنٹس کی بندش کے پیچھے اب ایک تیسری وجہ بھی سامنے آ گئی ہے، جس نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ انکریمنٹس روکنے کی پہلی وجہ یہ تھی کہ وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو انٹرویو میں غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر خود کو انکریمنٹ نہیں مل سکی جبکہ دوسری وجہ ایک انکریمنٹ کیس میں ان پر مبینہ طور پر توہینِ عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اب یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں میں اس فیصلے کی تیسری اور سب سے سنگین وجہ پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق خواتین یونیورسٹی ملتان میں پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے عارضی تعیناتی کے باوجود 5 کروڑ کے کمپیوٹرز کی خریداری اور استعمال سے متعلق ایک کرپشن کیس میں انکوائری کے باوجود 5 کروڑ روپے ادا کر دیئے جس کا براہِ راست بوجھ ملازمین پر ڈال دیا گیا۔ یاد رہے کہ تمام کمپیوٹرز کی خریداری کے آرڈرز عارضی، غیر قانونی اور کرپٹ ترین وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کیے تھے بعد ازاں ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے اوپر سے ملبہ اتارنے کے لیے خود کو بچاتے ہوئے سارے کا سارا ملبہ اسسٹنٹ خزانچی ریحان قادر پر ڈال کر انکوائری کمیٹی کی منظوری لی مگر وہ سینڈیکیٹ بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے فراڈ کے باعث غیر قانونی قرار دے دی گئی۔ بعد ازاں ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اس کرپشن کو اپنے اوپر سے اتارنے کے لیے فوری طور پر اپنے قریبی ٹھیکیدار کے کمپیوٹر خریداری کے بقایا جات بھی ادا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اور اب ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اس معاملے کو کلیئر کروانے کے لیے اپنی من پسند انٹرنل آڈٹ کمیٹی بھی بنا دی ہے۔ خواتین یونیورسٹی ملتان پنجاب کی واحد یونیورسٹی ہے جہاں وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ یونیورسٹی، یونیورسٹی سورسز اور ملازمین کے ساتھ قانون کے بر خلاف کھلم کھلا کھیل رہی ہیں اور جو بھی افسران ان سے اختلاف کرتے ہیں ان کو ڈاکٹر کلثوم پراچہ 3 ماہ کے ایڈیشنل چارج ہوتا ہونے سے پہلے ہی ہٹا کر اپنی ہم خیال تعینات کر دیتی ہیں۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو اتنا کھل کر کھیلنے دینے کی اجازت کے پیچھے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی مکمل سرپرستی اور حمایت حاصل ہے جسے وہ بعد ازاں ایک شوکاز نوٹس دے کر فرضی کاروائی پوری کر لیتے ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ اس بھاری مالی نقصان کی تلافی کے لیے ان کے جائز اور قانونی حقوق، خصوصاً سالانہ انکریمنٹس، کو دانستہ طور پر روکا جا رہا ہے، حالانکہ اس مبینہ معاملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ذرائع کے مطابق 3 اپریل 2025 کو ہونے والی سنڈیکیٹ میٹنگ کے منٹس پر بھی سنگین نوعیت کے اعتراضات سامنے آئے اور حیران کن طور پر اس میٹنگ کو بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے بطور پرو وائس چانسلر منعقد کروایا اور اس کے منٹس پر دستخط کیے۔ ان منٹس میں مبینہ طور پر رد و بدل اور حقائق کو مسخ کیا گیا، جس پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی یونیورسٹی کو ہائر ایجوکیشن کمیشن، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، لا ڈیپارٹمنٹ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ چاروں نے باضابطہ طور پر اعتراضات داخل کرتے ہوئے ان منٹس کو غیر شفاف قرار دیا۔ اور بعد ازاں اسے غیر قانونی قرار دیا گیا۔ یہ سنڈیکیٹ میٹنگ سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر فرخندہ منصور کو اعتماد میں لیے بغیر کروائی گئی۔ اس اقدام نے یونیورسٹی میں پہلے سے موجود انتظامی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اسی دوران وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی غیر قانونی تعیناتی اور بعد ازاں جعلی پروموشن پر بھی ٹھوس ثبوت سامنے آ چکے ہیں۔ اس بارے میں سلیکشن بورڈ کے ان کو ineligible کرنے کے واضح منٹس موجود ہیں کیونکہ تجربے کے حوالے سے مبینہ غلط بیانی کی گئی، جس کی بنیاد پر نہ صرف تعیناتی ممکن بنائی گئی بلکہ ترقی بھی حاصل کی گئی۔ اس پورے عمل میں ملتان بورڈ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، یونیورسٹی انتظامیہ اور اس وقت کی سربراہ شعبہ ڈاکٹر قدسیہ خاکوانی کو بھی غلط معلومات فراہم کر کے اعتماد میں لیا گیا۔ جس پر اس وقت ریٹائرمنٹ کے بعد وزٹنگ پر تعینات ڈاکٹر قدسیہ خاکوانی کو بھی شدید پچھتاوا ہے۔ ان تمام حالات کے باعث یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین شدید ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارے کی مالی و انتظامی بدنظمی کا خمیازہ کمزور طبقے سے وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ یونیورسٹی حلقوں، اساتذہ تنظیموں اور ملازمین نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں تعینات افراد کو خواب خرگوش سے جگایا جائے اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں تعلیم یافتہ، دیانت دار اور باصلاحیت افراد کو تعینات کیا جائے، جامعات میں کرپشن، فراڈ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لیے ایک شفاف، خودکار اور مؤثر مانیٹرنگ میکنزم بنایا جائے اور خواتین یونیورسٹی ملتان کے معاملات کی غیر جانبدارانہ اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائی جائیں۔ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو خواتین یونیورسٹی ملتان جیسے اہم تعلیمی ادارے علم و تحقیق کے مراکز کے بجائے انتظامی انتشار اور بداعتمادی کی علامت بن کر رہ جائیں گے۔







