تازہ ترین

ویمن یونیورسٹی انتظامی بحران، جعلی وی سی کا نیا بیانیہ، ایچ ای سی پر الزام دھر دیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان میں جاری بدترین انتظامی بحران نے اب ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ، جن پر پہلے ہی انتظامی ناہلی، مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ جعلسازی کے سنگین الزامات زیرِ بحث ہیں، اب اپنی پوزیشن بچانے کے لیے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو موردِ الزام ٹھہرانے لگی ہیں۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ پر الزام ہے کہ وہ ایک طرف اپنی ناقص کارکردگی اور مبینہ کرپشن کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں، تو دوسری جانب میٹرک کی سند میں مبینہ جعلی تاریخِ پیدائش، مشکوک تجرباتی سرٹیفکیٹس، اور سیلاب فنڈ، سیرت کانفرنس اور گرینڈ گالا جیسے سرکاری فنڈز کو ذاتی بینک اکاؤنٹس میں منگوانے جیسے ٹھوس شواہد سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا پر نیا بیانیہ متعارف کرا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب انہیں سنڈیکیٹ اجلاس کی اجازت نہیں دے رہا، حالانکہ اصل پس منظر کچھ اور ہی ہے۔ دستاویزات کے مطابق حالیہ دنوں میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تقریباً 80 ملازمین کے ایڈوانس انکریمنٹس روک دیے، جس پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور کمشنر ملتان کی جانب سے سخت ترین شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے۔ حیران کن طور پر ان نوٹسز کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اب پرو وائس چانسلر سنڈیکیٹ اجلاس بلا کر ان روکے گئے انکریمنٹس کی کٹوتی زبردستی منظور کروانا چاہتی ہیں اور اگر سنڈیکیٹ نے منظوری نہ دی تو ماضی کی طرح غیر منظور شدہ ایجنڈا آئٹمز کو منظور شدہ ظاہر کر کے بھجوانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں 43ویں سنڈیکیٹ اجلاس میں متعدد غیر منظور شدہ ایجنڈا آئٹمز کو منظور شدہ ظاہر کیا گیا تھا، جس پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے پوری سنڈیکیٹ کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ اسی تناظر میں تعلیمی و قانونی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا تاریخ خود کو دہرانے جا رہی ہے؟ قوانین، نوٹیفکیشنز اور ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے ضوابط کے مطابق عارضی یا قائم مقام وائس چانسلر نہ تو سنڈیکیٹ بلا سکتی ہیں اور نہ ہی کوئی طویل المدتی یا مالی فیصلے کرنے کی مجاز ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود مبینہ طور پر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو کھل کر کھیلنے کی اجازت دی گئی، جس کا خمیازہ اب خود ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھگت رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے معاملہ مزید بڑھاتے ہوئے براہِ راست گورنر پنجاب کو بھی شکایت کر دی ہے، جسے مبصرین انتظامی دباؤ بڑھانے کی ایک اور کوشش قرار دے رہے ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نئی وائس چانسلر کی تعیناتی تک خاموشی اختیار کیے رکھے گا، یا پھر موجود شواہد اور سنگین ثبوتوں کے بعد غیر قانونی طور پر اختیارات استعمال کرنے والی پرو وائس چانسلر کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرے گا؟ اس بارے میں موقف کے لیے یونیورسٹی پی آر او انعم زہرہ اور ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے دست راست، فرنٹ مین اور کماؤ پوت محمد شفیق سے رابطہ کیا گیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں