وفاق اور صوبوں میں اعتماد کا بحران

گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس نے وہی پرانا سوال پھر زندہ کر دیا ہے: پاکستان میں ریاست کی اصل کمزوری معاشی اعداد و شمار میں ہے یا اختیارات، وسائل اور اعتماد کی تقسیم میں؟ وفاقی وزیرِ خزانہ کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس بظاہر وسائل کی تقسیم پر مکالمہ ہے، لیکن اس کے پس پردہ ریاستی ڈھانچے کی گہری بے چینی چھپی ہے — مرکز آمدنی کی کمی سے پریشان ہے، صوبے اختیارات کی واپسی کا خوف لیے بیٹھے ہیں، اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کی جڑیں ہر نئے تنازع کے ساتھ مزید کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔مرکزی حکومت کی یہ خواہش کہ قومی محصولات کی تقسیم میں اپنا حصہ بڑھائے، محض مالیاتی بحث نہیں بلکہ آئینی اصول سے متصادم ہے، کیونکہ آئین کی دفعہ 160 کی شق 3(الف) واضح طور پر کہتی ہے کہ ہر نئے ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ پچھلے ایوارڈ سے کم نہیں ہوگا۔ یہ اصول 2010ء کے ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں طے ہوا، جب طویل کشمکش، سیاسی سودے بازی اور مرکز و صوبوں کے درمیان غیر معمولی اتفاق کے نتیجے میں صوبوں کی مالی خود مختاری کو مضبوط کیا گیا۔ آج اسی اصول کو چیلنج کرنا محض مالیاتی ضرورت نہیں بلکہ ریاستی بندوبست پر سوال کھڑا کرنا ہے۔پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کی اس شق میں تبدیلی کی مخالفت دراصل صوبائی خود مختاری کے اس نظریے کی توسیع ہے جسے ان کی جماعت ہمیشہ سے اپنے سیاسی وجود کا حصہ سمجھتی رہی ہے۔ اسی طرح تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے تحت اسد قیصر نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے حقوق اور وعدوں کی عدم تکمیل کا سوال اٹھایا، جس سے یہ حقیقت برآمد ہوتی ہے کہ وفاقی تقسیم میں صرف بڑی اکائیوں کا حصہ نہیں بلکہ چھوٹے خطوں کی محرومیاں اور ریاست کے وعدے بھی شامل ہیں۔وفاقی منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کی یہ رائے کہ آبادی کو ایوارڈ میں 82 فیصد وزن دینا آبادی کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اقتصادی اصول کی سطح پر درست دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے ساتھ وہ حقیقت بھی جڑی ہے کہ پاکستان میں آبادی کنٹرول کی ریاستی پالیسی ناکام رہی یا غیر سنجیدگی سے چلائی گئی۔ اگر آبادی کا بوجھ ریاست پر مسئلہ ہے، تو سزا آبادی کو نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامی کو ملنی چاہیے تھی۔ بلوچستان کی پسماندگی اس کی بہترین مثال ہے— قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ مگر انسانی ترقی کی کم ترین سطح پر۔ آبادی سے زیادہ انصاف اور عدم مساوات کا سوال یہاں فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔این ایف سی کے فیصلوں کی تاریخ بھی ہماری سیاسی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ 2010ء میں جو ایوارڈ منظور ہوا وہ محض مالیاتی اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک طاقتور سیاسی لین دین کا نتیجہ تھا— صدر زرداری کی جانب سے مسلم لیگ نواز کو تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کی آئینی راہ کھولنے کا وعدہ اور اٹھارہویں ترمیم کی شکل میں اختیارات کی منتقلی کا بیانیہ۔ جب ریاستی فیصلے اصولوں کی نہیں سیاسی ترازو کی بنیاد پر ہوں، تو پھر اگلے ایوارڈ تک پہنچنے کے لئے بھی مرکزی قوتوں اور صوبائی قیادت کی تجارت لازمی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 15 سال گزر گئے مگر آئین کی صریح ہدایت کے باوجود نئے ایوارڈ پر اتفاق نہ ہو سکا۔وفاق کی مالی کمزوری کا حل اگر صوبائی حصہ کم کرنا ہی سمجھا جائے، تو یہ سوچ اس حقیقت سے آنکھ چرانے کے مترادف ہے کہ وفاقی خسارے کا اصل مسئلہ غیر پیداواری اخراجات، سرکاری اداروں کی بیماری، ٹیکس چوری اور پالیسی کی ناکامی میں ہے۔ اگر وفاق اپنے حجم میں 600 ارب روپے کی کمی، انتظامی اخراجات میں کٹوتی، سبسڈیوں کی معقول حد بندی، اور دو صوبائی محکموں کی منتقلی کا راستہ اختیار کرے، تو شاید اسے محصولاتی ڈھانچے میں جراحی کی ضرورت نہ پڑے۔ مگر ایسا کرنے کے لئے ریاستی عزم، سیاسی اخلاقیات اور ادارہ جاتی ہمت چاہیے — تینوں یہاں کمزور دکھائی دیتے ہیں۔اصل بحران نیچے کہیں سیاسی اعتماد کی سطح پر ہے۔ صوبے وفاق کو اپنے وسائل پر قابض سمجھتے ہیں اور وفاق صوبوں کو فضول خرچ اور نتیجہ بے دریافت ادارے قرار دیتا ہے۔ اس پر زبانِ حال یہ کہ اگر وفاق صوبوں کی کارکردگی پر سوال کر سکتا ہے تو صوبے بھی وفاق سے پوچھ سکتے ہیں کہ سرکاری اداروں پر ڈالے گئے کھربوں روپے کہاں گئے؟ کیا یہ ادارے ٹیکنالوجی، تجارت یا پیداوار کا ذریعہ بن سکے؟ کیا قومی ہوا بازی، بجلی یا ریلوے عالمی معیار تک پہنچ سکے؟ اگر نہیں، تو پھر صوبے کیوں کر وفاق کو اپنے وسائل کا نگران مانیں؟یہ اداریہ سمجھتا ہے کہ این ایف سی کا بحران صرف مالیاتی تقسیم کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی اعتماد کی ٹوٹ پھوٹ کا استعارہ ہے۔ وفاق اور صوبوں کا رشتہ عمودی نہیں بلکہ مساوات کا ہے— ہر اکائی اپنی داخلی حکمرانی کی جواب دہ ہے اور دوسرے کی نگران نہیں۔ اسی حقیقت کا احترام کیے بغیر ایوارڈ کبھی اتفاقِ رائے سے منظور نہیں ہو سکتا۔لہٰذا این ایف سی کو کوئی تنگ نظر عددی فارمولہ نہیں بلکہ وفاقی روح کی بحالی کا موقع سمجھا جانا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے نہ صرف مالی توازن ممکن ہے بلکہ ریاستی اتحاد بھی— بشرطیکہ مکالمہ اخلاص کے ساتھ ہو، طاقت کے ترازو پر نہیں بلکہ برابر کی کرسی پر بیٹھ کر ہو، جہاں ہر اکائی خود کو شریکِ ریاست محسوس کرے نہ کہ زیرِ حکم۔

شیئر کریں

:مزید خبریں