وفاقی یونیورسٹیوں پر کمزور گرفت،صدر علوی بطور چانسلر بروقت فیصلے نہ کر سکے،تعلیمی بحران

وفاقی یونیورسٹیوں پر کمزور گرفت،صدرعلوی بطور چانسلر بروقت فیصلے نہ کر سکے،تعلیمی بحران

اعلیٰ تعلیم یافتہ صدر تعلیمی حوالوں سے اپنے اختیارات کے استعمال میں کمزور،بروقت فیصلے نہ کئے جانے کی وجہ سے شدید انتظامی اور مالی بحران کا شکار

این ایف سی یونیورسٹی ملتان پر ایوان صدرکا اختیار چل رہا نہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارت تعلیم کا ،7 سال سے غیر قانونی وائس چانسلر براجمان

نومبر 2021ء سے ڈاکٹر اختر کالرو برخاست شدہ بھی ہیں اور کام بھی کر رہے ، ان کے پاس کوئی سرکاری حکم نامہ ہے اور نہ ہی ایوان صدر سے منظوری

وزارت تعلیم پی ٹی آئی دور میں سابق وفاقی وزیر تعلیم کے دبائو پر صدر مملکت کو یاد دہانی کے خطوط بھی لکھ چکی جو مسلسل ایوان صدر میں زیر التوا چلے آ رہے

پروفیسر مرزا زوہیب کی رٹ میں وفاقی وزارت تعلیم تحریری طور پر تسلیم کر چکی کہ ڈاکٹر اختر کالرو وائس چانسلر کی سیٹ پر ناجائز قابض،فیصلے غیر قانونی ہیں

ملتان ( میاں غفار سے ) پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ صدر تعلیمی حوالوں سے اپنے اختیارات کے استعمال میں سابق صدر ممنون حسین سے بھی بہت زیادہ کمزور ثابت ہو رہے ہیں اور وفاق کے زیر انتظام تعلیمی اداروں خصوصی طور پر یونیورسٹیوں کہ جن کے چانسلر از خود صدر مملکت ہیں‘ بروقت فیصلے نہ کئے جانے کی وجہ سے شدید انتظامی اور مالی بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ درجنوں درخواستیں اور یونیورسٹی کے حوالے سے اپیلیں زیر التوا ہیں اور صدر مملکت کی توجہ کی کئی کئی ماہ سے منتظر ہیں۔ سب سے ابتر صورتحال وفاق کے زیر انتظام این ایف سی یونیورسٹی ملتان کی ہے جس پر نہ تو وفاقی وزارت تعلیم کا اختیار چل رہا ہے نہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا اور نہ ہی ایوان صدر کا جس کی سب سے بڑی مثال غیر قانونی اور ناجائز طریقے سے گزشتہ سات سال یونیورسٹی پر قابض غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کالرو کی ہے جنہیں سابق صدر پاکستان ممنون حسین نے 2017ء میں ملازمت سے برطرف کر دیا تھا اور کسی کی بھی سفارش نہیں مانی تھی جس پر ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان نے اس وقت کے اعلیٰ عدلیہ کے جج کو ذاتی درخواست کر کے لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ سے برخواستگی کے خلاف حکم امتناعی لے لیا مگر چونکہ اس حکم امتناعی حاصل کئے جانے کی کوئی معقول وجہ نہ تھی جس پر کیس شروع ہونے پر از خود واپس لے لیا اور اس طرح نومبر 2021ء سے ڈاکٹر اختر کالرو برخاست شدہ بھی ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں جبکہ ان کے پاس کام جاری رکھنے کا کوئی بھی سرکاری حکم نامہ نہیں ہے اور نہ ہی ایوان صدر سے منظوری۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وفاقی وزارت تعلیم پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سابق وفاقی وزیر تعلیم کے دبائو پر صدر مملکت کو یاد دہانی کے خطوط بھی لکھ چکی ہے جو کہ مسلسل ایوان صدر میں زیر التوا چلے آ رہے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں پروفیسر مرزا زوہیب کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن نمبر 10055/23 میں وفاقی وزارت تعلیم تحریری طور پر اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ ڈاکٹر اختر کالرو این ایف سی یونیورسٹی کےوائس چانسلر کی سیٹ پر ناجائز قابض ہیں اور ان کی طرف سے گذشتہ 7 سال کے دوران کئے گئے تمام فیصلے غیر قانونی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں