وفاقی حکومت کا گلگت بلتستان کو بڑا ریلیف، ہزاروں درآمدگی چینی اشیا پر ٹیکس چھوٹ

ملتان (سہیل چوہدری سے) حکومت پاکستان نے اہم فیصلہ کرتےہوئے گلگت بلتستان کو درآمدی اشیا پر ٹیکس چھوٹ کااعلان کردیا،حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ایک بڑی اقتصادی ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے چین سے درآمد ہونے والی اشیا پر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے مکمل چھوٹ دے دی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے حال ہی میں جاری کردہ ایس آر او 2488 (آئی)/2025 کے تحت 2403 سے زائد چینی اشیا کی فہرست کو اس چھوٹ کے دائرہ کار میں شامل کر لیا ہےبشرطیکہ یہ اشیا صرف گلگت بلتستان میں مقامی استعمال کے لیے ہوں۔یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کا نتیجہ ہے ۔کمیٹی کے چیئرمین وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری نے اسے گلگت بلتستان کی معاشی تاریخ کا اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات علاقے کے تاجروں اور عوام کی دیرینہ مطالبات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ پاک چین سرحدی تجارت کو مزید ہموار بنائیں گے۔ایف بی آر کے نوٹی فکیشن کے مطابق چھوٹ صرف گلگت بلتستان ڈومیسائل رکھنے والے مقامی تاجروں اور کمپنیوں کو ملے گی۔اشیا کی کلیئرنس کے لیے گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے آن لائن اجازت نامہ لازمی ہوگا۔سالانہ چھوٹ کی حد 4 ارب روپے تک رکھی گئی ہےجو فرسٹ کم فرسٹ سرو بنیاد پر دی جائے گی۔اگر اشیا علاقے سے باہر منتقل ہوئیں تو چھوٹ واپس لے لی جائے گی اور جرمانے عائد کیے جائیں گے۔گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ نے اس فیصلے کو عوام کے لیے تحفہ قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم علاقے کی معاشی ترقی، سیاحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ تاجروں کی تنظیموں نے بھی اسے خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اس سے سوست پورٹ پر تجارت معمول پر آ جائے گی۔ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کی وجہ سے وفاقی ٹیکسز کا نفاذ ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے۔ یہ چھوٹ نہ صرف مقامی عوام کو مہنگائی سے تحفظ دے گی بلکہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت سرحدی تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ یہ چھوٹ صرف مقامی استعمال تک محدود ہے اور کسی غلط استعمال کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔یہ اقدام گلگت بلتستان کو عملی طور پر ایک “ٹیکس ریلیف زون” کا درجہ دیتا ہے، جو علاقے کی معاشی خودمختاری کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں