ملتان (سٹاف رپور ٹر ) بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ایک بار پھر انتظامی بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی کا شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کی قیادت میں یونیورسٹی کے تقریباً ایک ہزار طلبہ کو 27 بسوں کے ذریعے چیف منسٹر پنجاب مریم نواز کی لودھراں آمد کے موقع پر لے جایا گیا۔ اس دورے کا مقصد نقد انعامات اور فیس معافی پروگرام میں شرکت بتایا جاتا ہے تاہم ناقص ہم آہنگی اور وقت کی سنگین خلاف ورزی کے باعث پورا قافلہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ذرائع کے مطابق صوبائی سطح پر سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام یونیورسٹیوں کو واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ صبح 10 بجے کے بعد کسی کو بھی انٹری کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کے باوجود بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کا قافلہ حیران کن طور پر 11 بجے کے قریب لودھراں پہنچا نتیجتاً سکیورٹی اداروں نے وائس چانسلر سمیت تمام طلبہ کو اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سکیورٹی ٹائم لائن پہلے سے طے اور واضح تھی تو یونیورسٹی انتظامیہ نے بروقت روانگی اور متبادل منصوبہ بندی کیوں نہ کی؟ کیا ایک ہزار طلبہ کی سیکیورٹی، وقت اور وسائل کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد نہیں ہوتی؟ داخلہ نہ ملنے کے بعد وائس چانسلر اور طلبہ کو پورا دن بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے لودھراں کیمپس میں گزارنا پڑا، جہاں نہ تو پروگرام میں شرکت ہو سکی اور نہ ہی طلبہ کو وہ مراعات مل سکیں جن کا وعدہ کر کے انہیں لے جایا گیا تھا۔ اس ناکام دورے کے باعث یونیورسٹی کو ٹرانسپورٹ، ایندھن اور دیگر انتظامی اخراجات کی مد میں 10 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا، جو کہ سرکاری وسائل کا کھلا ضیاع ہے۔ طلبہ اور اساتذہ حلقوں میں اس واقعے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ سیاسی نمائش اور غیر ضروری دوروں پر توجہ دینے کے بجائے تعلیمی بہتری، سیکیورٹی اور طلبہ کی سہولتوں کو ترجیح دے۔ ناقدین کے مطابق یہ واقعہ محض ایک تاخیر نہیں بلکہ فیصلہ سازی میں عدم سنجیدگی، ادارہ جاتی رابطے کی کمی اور قیادت کی کمزور منصوبہ بندی کا عکاس ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح انتظامی فیصلے بغیر تیاری کے کیے جاتے رہے تو نہ صرف یونیورسٹی کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ طلبہ کا اعتماد بھی مجروح ہوتا رہے گا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کا تعین ہو اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح ضابطہ کار مرتب کیا جائے۔ یہ واقعہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی موجودہ مینجمنٹ کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے کہ ادارے کو نمائشی سرگرمیوں کے بجائے پیشہ ورانہ نظم و نسق، بروقت فیصلوں اور طلبہ کے مفاد کو اولین ترجیح دینی ہوگی—ورنہ اس کی قیمت ہمیشہ طلبہ اور قومی خزانہ ہی ادا کرتا رہے گا۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق پنڈال پہلے ہی بھر چکا تھا تو سکیورٹی کے پیش نظر بہت سے لوگوں کو داخل نہیں ہونے دیا گیا جو لوگ پروٹوکول سے پہلے داخل ہو چکے تھے وہ اندر رہے۔ باقی بی زیڈ یو کے علاوہ بھی کافی لوگوں کو داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
مزید پڑھیں: بی زیڈ یو میں سکیورٹی ناکامی، گارڈ کی مبینہ غلط سرگرمی نے انتظامیہ کی ساکھ داغدار کردی
ملتان (سٹاف رپورٹر)بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی انتظامیہ کی جانب
سے سخت سکیورٹی اقدامات اور داخلی نگرانی کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود یونیورسٹی میں نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں کے واقعات سامنے آنا انتظامی ناکامی کا واضح ثبوت بن چکا ہے۔ تازہ واقعہ میں یونیورسٹی کے ایک سیکورٹی گارڈ قیصر وڑائچ کی جانب سے مبینہ طور پر ایک دھندہ کرنے والی خاتون کو ویٹرنری سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے اندر لے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس نے سیکورٹی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق مذکورہ واقعہ شام تقریباً سات بجے کے قریب پیش آیا، جب ویٹرنری سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے چند اساتذہ معمول کی واک کے دوران وہاں سے گزر رہے تھے۔ مشکوک سرگرمی محسوس ہونے پر اساتذہ نے ڈیپارٹمنٹ کے اندر جا کر دیکھا تو ایک سکیورٹی گارڈ ایک تقریباً 35 سالہ خاتون کے ساتھ موجود تھا۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر اساتذہ نے فوری طور پر ڈیپارٹمنٹ میں طویل عرصے سے تعینات آر او پروفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر کو طلب کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوچھ گچھ میں خاتون کے بارے میں مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ وہ غیر اخلاقی سرگرمیوں سے منسلک ہے، جس پر آر او نے معاملے کی مزید انکوائری کے لیے انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اتنے حساس تعلیمی ماحول میں ایک غیر متعلقہ شخص کا داخلہ کس کی اجازت سے اور کس نگرانی میں ممکن ہوا؟یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ایک دہائی کے دوران یونیورسٹی میں چوری اور بدانتظامی کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیکلٹی ہاؤسز، یونیورسٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں کی تاریں، ٹرانسفارمر، ٹریکٹر ٹرالی اور مختلف گاڑیوں کے ٹائرز بارہا چوری ہو چکے ہیں، مگر مؤثر تادیبی کارروائی یا جامع اصلاحات نظر نہیں آتیں۔ اب اس تازہ واقعے نے انتظامی کمزوریوں پر “سونے پر سہاگہ” کا کام کیا ہے۔اساتذہ اور ملازمین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں تعینات سیکورٹی گارڈز کی نہ تو مناسب سیکورٹی کلیئرنس کروائی جاتی ہے اور نہ ہی ان کی پیشہ ورانہ جانچ پڑتال کا کوئی مؤثر نظام موجود ہے۔ حیران کن طور پر متعدد شکایات اور واقعات کے باوجود ڈاکٹر مقرب اکبر آج بھی آر او کے عہدے پر برقرار ہیں، جس سے احتساب کے نظام پر بھی سوالات جنم لے رہے ہیں۔تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کی جائے، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہو، سیکورٹی کلیئرنس کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے اور یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے عناصر کا راستہ روکا جائے۔ بصورت دیگر، سختی کے نام پر دکھاوا اور عمل کے نام پر خاموشی ایسے واقعات کو جنم دیتی رہے گی، جو کسی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ اس بارے میں موقف کے لیے جب آر او ڈاکٹر مقرب اکبر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس خبر میں یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ آر او کو طلب کیا گیا میں تو اس وقت ایک جنازے میں تھا اس ڈیپارٹمنٹ کے ایک ٹیچر نے چیف سکیورٹی آفیسر ڈاکٹر عثمان سلیم کو کال کی اور وہ موقع پر پہنچے مجھے فون پر بتایا گیا جس پر میں نے اعلیٰ حکام کو اطلاع دے دی اور اس کے خلاف نظم و ضبط کی کاروائی کرنے کے لیے رجسٹرار کو لکھ دیا ہے ۔ بحیثیت آر او قانون کے مطابق سزا میں نہیں دے سکتا البتہ میں نے سکیورٹی گارڈز کے حوالے سےضابطے کی کاروائی کے لیے لکھا ہے اور رجسٹرار آفس نے بہت سے گارڈز کو سزائیں دی ہیں اور اتنی سزائیں گارڈز کو یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی دفعہ دی گئی ہیں ہم نے چور کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ تمام ثبوتوں کے ساتھ اس لیے اب چوریاں بھی نہیں ہو رہیں ۔ مزید برآں یونیورسٹی میں روزانہ چالیس ہزار کے قریب لوگوں کی آمدورفت ہے اور پانچ ہزار کے قریب رہائشی لوگ ہیں جو چار سو گھروں میں رہتے ہیں اور ان گھروں میں ان کے ملنے والے آتے رہتے ہیں اور گیٹ پر شناختی کارڈ رکھے جاتے ہیں اور تلاشی لی جاتی ہے ۔ اب اگر کسی کا مہمان کچھ کرے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کا لکھتے ہیں جو ہم نے لکھ کر بھیج دی ہے۔ اس بارے میں موقف کے لیے جب چیف سکیورٹی آفیسر ڈاکٹر عثمان سلیم سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ یہ تمام معلومات غلط ہیں۔ ہم نے اس واقعے کی پوری رپورٹ آر او کے ذریعے رجسٹرار کو بھجوا دی ہے۔







