تازہ ترین

وزیراعلیٰ تقریب، ناقص انتظامات، راجن پور کی لیڈی ہیلتھ ورکرز 18 گھنٹے سفر کے بعد رسوا

ملتان (وقائع نگار) محکمہ صحت پنجاب کی نااہلی، ہزاروں لیڈی ہیلتھ ورکرز شدید سردی اور دھند میں خوار پنجاب بھر سے ہزاروں لیڈی ہیلتھ ورکرز اور لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت “کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام” کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بلایا گیا، لیکن محکمہ صحت کی بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے سینکڑوں خواتین شدید سردی، دھند اور طویل سفر کے بعد سڑکوں پر بھوکی پیاسی خوار ہوئیں۔7 جنوری 2026 کو لاہور کے نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں ہونے والی اس تقریب میں پنجاب بھر سے تقریباً 55 ہزار کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کو مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم سٹیڈیم کی گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں ورکرز کو بلانے کی وجہ سے ہزاروں خواتین کو سٹیڈیم کے باہر سے ہی واپس گھروں کو روانہ ہونے کے احکامات جاری کیے گئے۔ شدید دھند اور سخت سردی کے موسم میں یہ خواتین کئی گھنٹوں کا طویل سفر طے کر کے لاہور پہنچیںلیکن انہیں تقریب میں داخلے کی اجازت نہ مل سکی۔خاص طور پر ضلع راجن پور سے 800 سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز 18 گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے بعد لاہور پہنچیں مگر بس سے اترے بغیر ہی انہیں بھوکے پیاسے واپس روانہ کر دیا گیا۔ ان خواتین کو نہ مناسب انتظامات فراہم کیے گئے اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کے لیے کوئی سہولیات،شدید دھند میں رات کے وقت واپسی کا سفر ان کے لیے انتہائی خطرناک اور ذلت آمیز ثابت ہوا۔ذرائع کے مطابق یہ تمام تر انتظامات وزیراعلیٰ کے سامنے “نمبر بنانے” کے چکر میں کیے گئے، جس کی وجہ سے محکمہ صحت کے افسران نے گنجائش کا خیال کیے بغیر زیادہ سے زیادہ تعداد کو بلانے کا فیصلہ کیا۔ نتیجتاً ہزاروں خواتین سڑکوں پر کھڑی رہیں اور آخر کار مایوس ہو کر واپس لوٹیں۔یہ واقعہ محکمہ صحت پنجاب کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جہاں ایک طرف پروگرام کی افتتاحی تقریب کو شاندار بنانے کی کوشش کی گئی، دوسری طرف فیلڈ میں کام کرنے والی خواتین کی عزت نفس اور صحت کا کوئی خیال نہ رکھا گیا۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز، جو پہلے ہی کم تنخواہوں اور سخت حالات میں خدمات انجام دیتی ہیں، اب ایسے غیر ذمہ دارانہ فیصلوں کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار ہو رہی ہیں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایسے پروگراموں کی کامیابی کے لیے زمینی سطح پر کام کرنے والوں کا مورال بلند رکھنا ضروری ہےمگر یہ واقعہ اس کے برعکس محکمہ کی لاپرواہی کو عیاں کرتا ہے۔ متاثرہ ورکرز نے احتجاج کی دھمکی بھی دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں